کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک): وزیراعلیٰ سندھ کے پروٹوکول افسر اور ان کے دوستوں کو کراچی کے علاقے دستگیر میں مسلح افراد نے لوٹ لیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ دستگیر کے علاقے جوہر آباد میں مسلح افراد نے وزیراعلیٰ سندھ کے پروٹوکول افسر مسرور وارثی اور ان کے تین دوستوں کو مسلح ڈکیتوں نے لوٹ لیا۔ ایس ایچ او جوہر آباد اے ڈی چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے پروٹوکول افسر مسرور وارثی اتوار کو صبح کے وقت اپنے دوستوں کے ہمراہ دستگیر میں واقع اپنے گھر کے قریب کھڑے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس دوران دو موٹر سائیکلوں پر سوار 4 مشتبہ افراد وہاں پہنچے اور چاروں افراد سے انہوں نے موبائل فون اور دیگر قیمتی اشیا چھین لیں اور فرار ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈکیتی کا واقعہ ریسٹورنٹ کے قریب پیش آیا لیکن دعویٰ کیا کہ ڈکیتوں نے ریسٹورنٹ میں موجود کسی کسٹمر کو نہیں لوٹا۔ دوسری جانب میڈیا نے مسرور وارثی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے دوست کینیڈا سے آئے ہوئے تھے۔ وزیراعلیٰ کے پروٹوکول افسر نے میڈیا کو بتایا کہ مسلح افراد نے ریسٹورنٹ میں 10 سے 12 افراد سے موبائل فونز اور پرس چھینے اور ریسٹورنٹ کے کسٹمر بھی اپنی قیمتی چیزوں سے محروم ہوگئے۔ ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ واقعے کی ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے اور مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں اور انہیں انصاف کے کٹہرے پر کھڑا کیا جائے گا۔
واقعے کا مقدمہ سرسید ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302، 393 اقر 34 کے تحت درج کرلیا گیا ہے۔
دوسری جانب ڈیفنس میں درخشاں تھانے کی حدود میں ڈاکوؤں نے گھر کا صفایا کردیا ، ڈکیت گھر سے 60 لاکھ روپے سے زائد کی ڈکیتی کرکے فرار ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے گھر کے ملازم کو گرفتار کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق درخشاں تھانے کی حدود میں خیابان مجاہد میں سال کی پہلی بڑی ڈکیتی کی واردات ہوئی ہے ڈاکوؤں نے بنگلے کا صفایا کردیا ہے۔ پولیس کی جانب سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق ڈاکو گھر سے چالیس لاکھ سے زائد کی نقدی اور طلائی زیورات لوٹ کر فرار ہو گئے ہیں۔
پولیس کی جانب سے درج کیے گئے مقدمے کے متن کے مطابق واردات میں دیگر سامان بھی چوری کیا گیا ہے۔ چوری کے وقت گھر پر کوئی موجود نہیں تھا، واردات رات کے اوقات میں سر انجام دی گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق گھر کے مکین ایک ہفتے سے اسلام آباد گئے ہوئے تھے، گھر کے افراد واپس آئے تو واردات کا معلوم ہوا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں ، ملزمان تک پہنچنے کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد لی جارہی ہے ، جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔ پولیس ذرائع نےمیڈیا کو بتایا ہے کہ گھر کے ایک نوکر کوگرفتار کرلیا گیا ہے جس سے تفتیش جاری ہے۔
خیال رہے کہ کراچی میں گزشتہ چند ماہ سے ڈکیتیوں کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھا جارہا ہے جہاں شہری نہ صرف اپنی قیمتی اشیا سے محروم ہو رہے بلکہ مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔