ملیر(نجات نیوز): پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم این اے سردار جام عبدالکریم جوکھیو نے کہا ہے کہ پاکستان اسٹیل مل سے جبری برطرف ملازمین کو بحال کرنے کیلئے وفاقی کمیٹی کی جانب سے سفارشات کی گئی ہیں ، برطرف ملازمین کو بحال کرکے روزگار کو تحفظ فراہم کیا جائے گا، اسٹیل مل کے رٹائرڈ ملازمین کی بقایا جات کی ادائیگی کیلئے گلشن حدید فیز 4 کی زمین کو نیلا م کرکے بقایا جات ادا کیئے جائیں گے، ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے ملیر پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کیا.
ایم این اے سردار جام عبدالکریم جوکھیو نے کہا کہ مردمشاری سندھ کی بقا کا مسئلہ ہے، ملیر کے تمام لوگ مردمشماری میں اپنے شماریات کو یقینی بنائے، انہوں نے کہا کہ ملیر میں اسکولوں کی نئی اسکیمیں دی گئی ہیں، جس میں کچھ اسکول مکمل ہوگئے ہیں جہاں بچوں کو بہترین تعلیم اور تربیت دی جائے گی، ہمار ی تعلیم پر تمام زیادہ توجہ ہے ، تمام علاقہ مکین اپنے بچوں کو لازمی تعلیم دلوائیں تاکہ مستقبل کے معمار اچھے عہدوں پر پہنچ سکیں.
ایم این اے سردار جام عبدالکریم جوکھیو نے کہا کہ ملیر کے علاقے درسانہ چھنہ کے قریب ایجوکیشن سٹی کا منصوبہ 1999 سے شروع کیا گیا تھا ، ہزاروں ایکڑ زمین بھی الاٹ کی گئی لیکن افسوس 24 برس گذرنے کے باوجود ایجوکیشن سٹی کا کام شروع نہیں ہوسکا ہے ، جبکہ پنجاب میں ایجوکیشن سٹی کا کام 95 فیصد مکمل ہوگیا ہے.
انہوں نے کہا ملیر میں سرکاری زمینوں پر قبضہ کرکے جعلی گوٹھ تعمیر کرکے غیر ملکیوں ا ور دیگر کو آباد کیا جارہا ہے جعلی گوٹھوں کے بننے سے قدیمی گوٹھوں اور مقامی لوگوں کو بہت خدشات ہیں ، جعلی گوٹھوں کے خلاف کاروائی کیلئے انتظامیا کو کئی مرتبہ تحریری خطوط ارسال کردیئے ہیں ، ڈی سی ملیر کو قبضہ مافیا کے خلاف کاروائی کا کہا ہے ، لینڈ مافیا کو ملیر میں کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا، ڈسٹرکٹ ملیر پاکستان پیپلز پارٹی کا قلعہ ہے اور قلعہ رہے گا ، ملیر کے مکینوں نے ہمیشہ پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا ہے ، ملیر پریس کلب ملیر کی عوام کا ایک بہت بڑا آواز ہے، ملیر کے صحافیوں نے ہمیشہ حق اور سچ لکھا ہے ملیر کے اشوز کو اپنے قلم کے ذریعے اعلیٰ ایوانوں تک پہنچایا ہے ، ملیر پریس کلب ہمارا ادارا ہے ، ملیر پریس کلب کی ترقی کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے.
اس موقعے پر ایڈمنسٹریٹر ضلع کاؤنسل کراچی نور حسن جوکھیو، پیپلز پارٹی پی ایس 87 کے صدر امداد جوکھیو ، آغا طارق پٹھان ، مجاھد جوکھیو، خالد حسین جوکھیو، جمال واحد جوکھیو، فدا جوکھیو، اور دیگر بھی موجود تھے۔