کراچی (ویب ڈیسک): ڈیجیٹل مردم شماری کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے سندھ ترقی پسند پارٹی کی جانب سے لگائے گئے مسلسل دن رات احتجاجی کیمپ میں آج 11 وین دن بھی سندھ دوست مختلف سیاسی و سماجی رہنما اور وفود کی آمد جاری رہی۔ احتجاجی کیمپ پر ایس ٹی پی کے وائس چیئرمین انجینئر گلزار سومرو، ڈاکٹر سومار منگریو، قادر چنا، شوکت ابڑو، کراچی ڈویژن کے رہنما کامریڈ حیات تنیو، عاشق تھہیم، رجب مگسی اور دیگر نے سینکڑوں کارکنوں کے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ PDM کی وفاقی حکومت وقت سے پہلے جبری مردم شماری کروا کر سندھیوں کے فطری اور آفاقی حق کو سلب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک آمرانہ اور سندھ دشمن جماعت ہے جس کی پالیسیاں ہمیشہ موقع پرست اور سندھ کے قومی مفادات کے منافی رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کی اہم اتحادی جماعت ہے جس کے کندھوں پر پی ڈی ایم کی حکومت کھڑی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے وجود اور بقا کو خطرہ ہے، اس لیے سندھ اس مردم شماری کو یکسر مسترد کرتا ہے۔
احتجاجی کیمپ میں عوامی تحریک کے مرکزی صدر لال جروار، ادی حور پلیجو اور نور احمد کاتیار، سندھ ڈیموکریٹک فورم کے شفیق موسوی اور دیگر وفود آئے اور ایس ٹی پی کی جانب سے جاری جدوجہد کو وقت کی ضرورت سمجھتے ہوئے بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔
ڊجيٽل آدمشماري خلاف سنڌ ترقي پسند پارٽي جو ڪراچي پريس ڪلب اڳيان 11 ڏينهن به احتجاج جاري pic.twitter.com/CN5tp5Rptx
— Sindh Taraqi Passand Party (@stpinfocell) March 14, 2023
اس موقع پر انجینئر شفیق موسوی نے اس مردم شماری سے نقصانات اور تکنیکی خطرات سے بھی آگاہ کیا۔
آج کے احتجاجی کیمپ میں محمد علی شیخ، فواد رند، موسیٰ لورکو، ساگر ابڑو، نسیم چانڈیو، ماجد شیخ اور سینکڑوں کارکنوں نے بھی شرکت کی۔