حیدرآباد (ویب ڈیسک): سندھ ترقی پسند پارٹی (STP) کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے کارونجھر کی نیلامی پر اپنا سخت رد عمل دیتے ہوئے اس نیلامی کو مسترد کردیا .انہوں نے نیلامی کے دن یعنی 31 جولائی کو محکمہ معدنیات کے دفتر کے سامنے دھرنے کا بھی اعلان کیا . ڈاکٹر قادر مگسی کا مزید کہنا تھا کہ کارونجھر نیلامی پر سندھ ترقی پسند پارٹی کے دھرنے کے اعلان کے بعد نیلامی کی منسوخی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے تک وزیر کے بیان کی کوئی اہمیت نہیں۔نیلامی کی منسوخی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے تک ایس ٹی پی کارکنان اپنا نعرہ بلند رکھیں گے اور 31 جولائی کو اعلان کردہ دھرنے کی تیاری جاری رکھیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر کے ممالک تاریخی، ثقافتی اور مقامات اور اثاثوں کی حفاظت منفرد حیثیت کے ساتھ کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے سندھ کی زمینوں کے بعد اب پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ کے تاریخی مقامات کو نیلام کرنے کی اجازت دے رہی ہے جو کہ انتہائی شرمناک فعل ہے۔
ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ کارونجھر نہ صرف اپنی تاریخی حیثیت رکھتا ہے بلکہ ایک منفرد اور دلفریب جگہ ہے جسے مزید خوبصورت ہونے کے بجائے بیچا جا رہا ہے، سندھ ایسے شرمناک حکومتی فیصلے کو نہ صرف یکسر مسترد کرتا ہے بلکہ اگر پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے یہ فیصلہ واپس نہ لیا تو پورا سندھ اپنے مقامات کی حفاظت کے لیے سڑکوں پر نکل آئے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں گزشتہ پندرہ سالوں میں اس کے وزراء، مشیروں اور رہنماؤں نے کرپشن کے ذریعے صرف اپنے کھاتے بھرے اور سندھ کے مفادات پر سودے بازی کی، اس لیے اب سندھ کے عوام کو اگلے الیکشن میں سندھ کے مفادات کے لیے ووٹ دینا ہوگا۔ ایسے لوگوں کا انتخاب کیا جائے جو سندھ کے حقوق کا تحفظ کریں اور سندھ کی خوشحالی کے لیے جدوجہد کریں۔