Nijat News
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • دنیا
  • پاکستان
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • صحت
  • کاروبار
  • ویڈیوز
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • دلچسپ و عجیب
  • بلاگ
  • رازداری کی پالیسی
  • Contact
Reading: صدر عارف علوی کا ماضی کا ریکارڈ دیکھیں تو انتخابات نہ کراتے، چیف جسٹس
Share
Nijat NewsNijat News
Font ResizerAa
Search
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • دنیا
  • پاکستان
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • صحت
  • کاروبار
  • ویڈیوز
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • دلچسپ و عجیب
  • بلاگ
  • رازداری کی پالیسی
  • Contact
Follow US
© 2022 Nijat News. Ruby Design Company. All Rights Reserved.
Nijat News > پاکستان > صدر عارف علوی کا ماضی کا ریکارڈ دیکھیں تو انتخابات نہ کراتے، چیف جسٹس
پاکستان

صدر عارف علوی کا ماضی کا ریکارڈ دیکھیں تو انتخابات نہ کراتے، چیف جسٹس

Published June 27, 2024
Tags: Featured جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ 22 دسمبر 2023 کو صدر مملکت کون تھا؟ وکیل سکندر بشیر نے بتایا کہ دسمبر 2023 میں صدر مملکت عارف علوی تھے۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹکٹ تحریک انصاف کا جمع کرایا گیا تھا، حامد رضا نے بیان حلفی دیا کہ وہ پی ٹی آئی نظریاتی کے امیدوار ہیں
Share
SHARE

اسلام آباد: سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ اگر عارف علوی کا ماضی کا ریکارڈ دیکھیں تو انتخابات نہ کراتے، صدر مملکت عارف علوی پی ٹی آئی کے ہو کر کیوں انتخابات کی تاریخ نہیں دے رہے تھے؟

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ سماعت کر رہا ہے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے دلائل کا آغاز کیا۔ سکندر مہمند نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل میں شامل 81 آزاد ارکان کے کاغذات نامزدگی بھی منگوائے تھے، تمام ریکارڈ ضلعی سطح پر ہوتا ہے مکمل ریکارڈ نہیں ملا لیکن اسکی سمری موجود ہے۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ تحریک انصاف کی ترجیحی فہرست بھی فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ حامد رضا نے حلف لے کر کہا میں تو تحریک انصاف نظریاتی میں ہوں۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کے مطابق الیکشن کمیشن نے حامد رضا کو ٹاور کا نشان دیا، ریٹرننگ افسران بھی تو الیکشن کمیشن کے ہی آفیشلز ہیں۔ وکیل نے بتایا کہ حامد رضا کی سب سے آخری درخواست پر الیکشن کمیشن نے عمل درآمد کیا۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ حامد رضا نے کس سیاسی جماعت سے خود کو منسلک کیا؟

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو ریکارڈ ہے ہمیں دکھائیں، ورنہ تو ہوا میں بات ہوگی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا کاغذات نامزدگی واپس لینے کے بعد کسی امیدوار کو اختیار ہے کہ اپنی پارٹی تبدیل کرلے؟ کیا کوئی امیدوار کہہ سکتا ہے کہ فلاں پارٹی کو چھوڑ کر دوسری پارٹی کا ٹکٹ لینا چاہتا ہوں؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمارے سامنے کاغذات نامزدگی کا کیس ہے، ریٹرننگ افسران کے پاس امیدوار کے کاغذات نامزدگی کے ساتھ منسلک پارٹی سرٹیفیکیٹ ہوتا ہے؟

وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے جو آخری درخواست ہو اس کے ساتھ جانا ہوتا ہے، پہلے والا فارم الیکشن کمیشن نے کیوں نہیں دیکھا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ایک شخص اگر شادی کرنا چاہے لیکن لڑکی کی بھی رضامندی ضروری ہے نا، جس پارٹی سے انتخابات لڑنے ہیں اسی کی پارٹی سے منسلک ہونے کا سرٹیفیکیٹ لگانا ضروری ہے نا؟ سرٹیفیکیٹ تحریک انصاف نظریاتی اور ڈیکلریشن منسوخ پی ٹی آئی کا کریں تو قانون کیا کہتا؟ کیا آپ کسی کو انتخابات سے باہر کرسکتے ہیں؟

وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ ریٹرننگ افسران کے لیے صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سب سے آسان راستہ تھا کہ ایسے امیدواروں کو آزاد ظاہر کیا جائے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال کیا کہ کیا ایسا ہوا کہ امیدوار کہے میں ایک پارٹی کا ہوں، اسی کا سرٹیفیکیٹ بھی دے لیکن الیکشن کمیشن نے اسے آزاد امیدوار ظاہر کر دیا ہو؟ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ ایسے امیدوار تھے لیکن انہوں نے کاغذات نامزدگی واپس لے لی۔ جسٹس نعیم افغان نے سوال کیا کہ کیا دستاویزات سے ظاہر نہیں ہوتا کہ تحریک انصاف کے امیدواروں کا غیر سنجیدہ رویہ تھا؟

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ نشان سے کنفیوژ نہ کریں، ہم تحریک انصاف کے امیدوار کیوں نہ تصور کریں، سرٹیفیکیٹ میں تضاد نہیں، الیکشن کمیشن امیدوار کی حیثیت تبدیل کر رہا ہے، جس پارٹی کا سرٹیفیکیٹ لایا جا رہا اسی پارٹی کا امیدوار کو تصور کیوں نہیں کیا جا رہا؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مجھے جو سمجھ آرہا کہ امیدوار کے پاس اختیار نہیں کہ آخری تاریخ گزرنے کے بعد اپنی سیاسی وابستگی تبدیل کرے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الیکشن کمیشن وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کا جواب سمجھ نہیں آرہا لیکن اگے بڑھتے ہیں۔

جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس میں کہا کہ آپ نے امیدواروں کو آزاد کیوں کہا جب خود کو وہ ایک سیاسی جماعت سے وابستہ کہہ رہے تھے؟ کنفیوژن شروع ہوگئی کہ پارٹی کا ٹکٹ نہیں ملا تو امیدوار کیا کرسکتا ہے، پوچھا تو الیکشن کمیشن سے جائے گا نا کہ انہوں نے کیا کیا؟ آزاد امیدوار تو الیکشن کمیشن نے بنایا تھا۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک امیدوار کی بات نہیں، تحریک انصاف کی بات ہو رہی جو قومی جماعت ہے، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو کہا کہ آپ کو نشان نہیں ملے گا، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا لیکن ایسا نہیں کہا کہ تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کر دیں، سپریم کورٹ کا تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا مقصد ہرگز نہیں تھا، بلے کے نشان کے فیصلے کے ساتھ سپریم کورٹ کھڑی ہوتی لیکن تحریک انصاف کو انتخابات سے باہر کرنا مقصد نہیں تھا۔

جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ 22 دسمبر 2023 کو صدر مملکت کون تھا؟ وکیل سکندر بشیر نے بتایا کہ دسمبر 2023 میں صدر مملکت عارف علوی تھے۔ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا نگراں حکومت تھی یا سیاسی جماعت کی حکومت تھی؟ کیا کسی نگراں حکومت کو نیوٹرل ہونا چاہیے؟ اتنی نیوٹرل جتنا الیکشن کمیشن ہے؟ کیا نگراں حکومت اتنی ہی انڈیپینڈنٹ ہونی چاہیے جتنا الیکشن کمیشن ہے؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر عارف علوی کا ماضی کا ریکارڈ دیکھتے تو انتخابات عارف علوی نہ کرتے، دنیا بھر کی باتیں کر رہے، صدر مملکت عارف علوی پی ٹی آئی کے ہو کر کیوں انتخابات کی تاریخ نہیں دے رہے تھے؟

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ انتخابات میں عوام کی منشا دیکھی جاتی ہے، اگر کوئی انتخابات پر سوال اٹھے تو الیکشن کمیشن کے پاس معاملہ جاتا ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیاسی نشان بعد کی بات ہے، امیدوار انتخابات میں حصہ لیتا ہے، پارٹی نہیں، امیدوار صرف پارٹی کے ساتھ اپنی وابستگی ظاہر کرتا، امیدوار کا حق ہے کہ اسے انتخابات کے لیے نشان ملے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئےکہ مفروضوں والی باتیں کیس میں نہ کریں۔ وکیل سکندر بشیر نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے پشاور کے پانچ رکنی بینچ کو مطمئن کیا، میرے دلائل کو ججز نے باہر نہیں پھینکا۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایسا نہ کہیں کہ پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ دے دیا تو بس ہوگیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ حامد رضا نے ٹکٹ کس جماعت کا جمع کرایا تھا۔

وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹکٹ تحریک انصاف کا جمع کرایا گیا تھا، حامد رضا نے بیان حلفی دیا کہ وہ پی ٹی آئی نظریاتی کے امیدوار ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ بیان حلفی کا معاملہ الگ ہے جمع کرایا گیا ٹکٹ پی ٹی آئی کا تھا۔

سکندر مہمند نے کہا کہ سنی اتحاد میں شامل ہونے والوں کی سب سے آخری درخواستیں منظور کی گئیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ امیدواروں کی حتمی فہرست 12جنوری کو جاری ہونا تھی، کیا کاغذات نامزدگی واپسی کی تاریخ کے بعد امیدوار پارٹی تبدیل کر سکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ انتخابی نشان کی الاٹمنٹ تک پارٹی ٹکٹ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

TAGGED:Featuredجسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ 22 دسمبر 2023 کو صدر مملکت کون تھا؟ وکیل سکندر بشیر نے بتایا کہ دسمبر 2023 میں صدر مملکت عارف علوی تھے۔وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹکٹ تحریک انصاف کا جمع کرایا گیا تھا، حامد رضا نے بیان حلفی دیا کہ وہ پی ٹی آئی نظریاتی کے امیدوار ہیں
Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article جیون ساتھی فہد مصطفیٰ اور ہمایوں سعید کا مکسچر ہونا چاہیے: مہوش حیات
Next Article جولائی میں معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان، بالائی علاقوں میں شدید موسمی صورتحال کا خطرہ
Leave a Comment

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

پاپولر

’فیفا ورلڈ کپ 2022‘ کا آفیشل گانا ’لائٹ دی اسکائے‘ ریلیز

فیڈریشن انٹرنیشنل فٹ بال ایسوسی ایشن‘ (فیفا) کے عالمی ورلڈ…

October 8, 2022
سونے کے سکّے دینے والی آٹو میٹڈ ٹیلر مشین

بھارت میں سونے کے سکے نکالنے والی پہلی ’اے ٹی ایم‘ متعارف

بھارت میں پہلی بار سونے کے سکّے دینے والی آٹو…

December 15, 2022
Imran Khan Speech

جنرل باجوہ کے NRO II میں تما گندے عناصر کو “ڈرائی کلین” کر دیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان…

December 15, 2022

خاص آپ کے لیے

دلچسپ و عجیب

جاپانی ایئرپورٹ پر قینچی گم ہوجانے پر36 پروازیں منسوخ، 201 تاخیر کی شکار

ہوکائیڈو (ویب ڈیسک): حال ہی میں ایک جاپانی ہوائی اڈے پر بورڈنگ گیٹس کے قریب ایک اسٹور سے قینچی کے…

August 21, 2024
پاکستانتازہ ترین

نتائج میں ہیراپھیری ثابت مگر ریلیف انٹر کے طلبہ کو نہیں‌ملے گا،صرف فرسٹ ایئر 2023 کے طلبہ کو 15 فیصد اضافی مارکس کا فیصلہ

کراچی(ویب ڈیسک): انٹر بورڈ کے فرسٹ ایئر 2023 کے امتحانی نتائج کے معاملے پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے سربراہ نے…

February 16, 2024
پاکستان

ججز کے درمیان مبینہ جھگڑے کی خبر: ترجمان سپریم کورٹ کی تردید

اسلام آباد (ویب ڈیسک): سپریم کورٹ کے ججز کے درمیان مبینہ جھگڑے اور ہاتھا پائی کی خبروں پر ترجمان سپریم…

April 14, 2023
پاکستان

اب رولا پڑگیا ہے تو انکوائری کررہا ہوں اور نام بھی بتاؤں گا کہ کون کون پرتگال میں جائیدادیں خرید رہا ہے: خواجہ آصف

کراچی (ویب ڈیسک): وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہےکہ بیورو کریسی کا پچھلے 78 سال میں کوئی احتساب نہیں ہوا…

August 11, 2025
Nijat News

فہرست

  • تازہ ترین
  • دنیا
  • پاکستان
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • صحت
  • کاروبار
  • ویڈیوز
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • دلچسپ و عجیب
  • بلاگ

 

  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • دلچسپ و عجیب
  • بلاگ

 

  • کھیل
  • صحت
  • کاروبار
  • ویڈیوز

فہرست

  • تازہ ترین
  • دنیا
  • پاکستان
  • انٹرٹینمنٹ

© 2022 Nijat News.  All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?