کراچی (ویب ڈیسک): سندھ یونائیٹڈ پارٹی کی کال پر کراچی کے ایک نجی ہوٹل میں کراچی کے ضلع کیماڑی میں واقع ہاکس بے کی زمین ڈی ایچ اے کو منتقل کرنے کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میںہاکس بے کے لوگوں کے نام پر قدیم دیہات میں بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں جبکہ سندھ حکومت زمین ڈی ایچ اے کے حوالے کرنے کا فیصلہ واپس لے۔سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے رہنما سید زین شاہ، سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی، عوامی تحریک کے رہنما نورمحمد کاتیار، جئے سندھ محاذ کے رہنما ریاض چانڈیو، جماعت اسلامی سندھ کے امیر محمد حسین محنتی، جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین اسلم خیرپوری نے جلسے میں شرکت کی۔ آل پارٹیز کانفرنس میں جی ڈی اے کے رہنما ڈاکٹر صفدر عباسی، جے یو آئی کراچی کے صدر قاری محمد عثمان، وکلا رہنمائوں اور دیگر نے شرکت کی جبکہ ہاکس بے ساحل کے متاثرہ دیہات کے رہنما محمد علی بھنڈ نے بھی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی۔
اے پی سی میں شہداء کے ورثا کے نام اراضی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا گیا .
سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے چیئرمین سید زین شاہ نے آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان زمینوں کاعوامی فلاح کے لیے استعمال ہونا چاہیے یہ سندھ حکومت کا فرض ہے کہ وہ ان زمینوں کا تحفظ کرے ۔مگر پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک سازشیں جاری ہیں۔یہ حکومت 2008 میںاقتدار میں آئئی ہے، ایک جنرل کے ساتھ معاہدے کے تحت قائم شدہ یہ حکومت لاکھوں ایکڑ زرعی زمین کمپنیوں کے حوالے کرنا، سیاحت کے نام پر زمینیں حوالے کرنا ،تمام قیمتی زمینوں کا سودا کیا گیا ہے یہ زمینیں ہماری آنے والی نسلوں کی ہیں۔
سید زین شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن بھی مینیج ہوئے، احتساب کی فائلیں روکی گئیں اور ان کے بدلے زمینوں کاسودا کیا گیا۔ہاکس بے کی 6 ہزار ایکڑ اراضی کامعاملہ نوٹیفائی نہیں کیا گیا اس زمین کو حوالے کرنے سے شہداء کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ہزاروں سے لاکھوں ایکڑ زمین لی جا رہی ہے پاکستان کی تاریخ کے تمام شہداء کے لیے ایک ہی ڈی ایچ اے کافی ہے،یہ زمینیں شہدا کونہیں دی جا رہی ہیں۔یہ زمینیں ہماری ہیں، ہم انہیں آباد کریں یا نہ کریں، ہماری مرضی ہم وہاں جھونپڑی بنائیں، جب کہ ان زمینوں کے تحفظ کی ذمہ داری سندھ حکومت کی ہے۔جہاں مقامی لوگوں کا حق ہے، یہ وہاں ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنارہے ، روشنیوں کا یہ شہر ہمارے لیے اندھیروں کا شہر بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی، جماعت اسلامی، جے یو آئی اور وکلاء رہنمائوں نے بھی کہا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں۔
نوٹیفکیشن تک بات پہنچی تو ہم سب مل کر بڑا احتجاج کریں گے۔میں فی الحال اس بات پر نہیں جانا چاہتا کہ ڈی ایچ اے سٹی سے منصور بیس تک کتنی زمین عام لوگوں کی ہے اور کتنی الاٹ کی گئی ہے۔
اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئے سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ کراچی میں سندھی عوام کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔آج لوگ کہتے ہیں کہ سندھ کے قوم پرست تنخواہ دار ہو گئے ہیں۔وہ کون تھے اس وقت جب سندھ کی سرزمین پر چھاؤنیاں بن رہی تھیں؟جبکہ سوشل میڈیا پر قوم پرست رہنمائوں کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے۔سندھیوں نے ضیا کی آمریت کے خلاف بھی جدوجہد کی۔
ڈاکٹر قادر مگسی نے کراچی کے سندھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مرے نہیں، ہم زندہ ہیں اور آپ کے ساتھ ہیں۔ہم نے ماضی میں بھی عملی کام کیا اور اب مستقبل میں بھی کچھ کر دکھائیںگے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ شہداء کے نام پر شاپنگ مالز اور پلازے بنائے جا رہے ہیں۔سندھ سے برطانوی فوج میں کوئی بھرتی نہیں ہوئی کیونکہ سندھی لوگ اپنے مادر وطن سے محبت کرتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں اپوزیشن کا تعلق بھی اسٹیبلشمنٹ سے ہے، ہماری نمائندگی میر اور پیر کرتے ہیں جو وطن کو بیچنے والے ہیں، جب کہ اس وقت کراچی میں وزیراعلیٰ کے پاس اختیار نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کچھ افغانستان سے آئے، کچھ ہندوستان سے آئے، کچھ بنگال سے آئے، ان کی زمینیں لیز ہو گئیں، لیکن سندھیوں کے گاؤں لیز نہیں کیے گئے۔
آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر محمد حسین نے کہا کہ مقامی لوگوں کو بے دخل کر کے شہداء کے نام پر 6 ہزار ایکڑ اراضی لی جا رہی ہے لیکن ہاکس بے کی زمین پر قبضہ ظلم ہے اور شہداء کو زمین دینی ہے تو وہاں دی جائے جہاں کے وہ رہائشی ہیں۔پورا کراچی ڈی ایچ اے ہے، جہاں زمینیں لی گئیں اور اسکیمیں بھی بنائی گئیں وہاں 10فیصد بھی فوجی لوگ نہیں رہتے. یہ صرف منافع کمانے کی رشوت ہے۔جب تک یہ حکومت رہے گی یہ قبضہ اور لاقانونیت جاری رہے گی۔یہ مطالبہ صرف سندھی بولنے والوں کا نہیں، سب کا مطالبہ ہےکہ سندھ کی سرزمین صرف سندھیوں کی ہے۔بحریہ ٹاؤن کے لیے بھی عوام پر ظلم کر کے زمینیں ہڑپ کی گئی ہیں، اس معاملے پر اس مسئلے پر صرف سندھی ہی نہیں ہم جماعت اسلامی اور دیگر جماعتیں آپ کے ساتھ ہیں۔
اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئے جیے سندھ محاذ کے چیئرمین ریاض چانڈیو نے کہا کہ 15 سال سے زائد کی سندھ حکومت کے دوران دو مردم شماریاں کرائی گئیں جس میں سندھیوں کی تعداد کم کی گئی۔بیوروکریسی کے لیے سندھ بیچنا کاروبار ہے لیکن ہمارے لیے سندھ ہمارا وطن ہے۔مردم شماری کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ پسماندہ علاقوں میں آبادی بڑھ جاتی ہے لیکن کراچی میں اردو کی آبادی زیادہ دکھاکر اردو بولنے والوں کو لالی پاپ دے دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک ریاض روپوش ہے، انہیں رہائشی اور کمرشل زمینیں دی گئی ہیں، اسٹیبلشمنٹ ملک ریاض سے لڑ رہی ہے لیکن ان کی زمینیں منسوخ نہیں کی جا رہی ہیں۔صدر پاکستان اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایم پی ایز لوٹ مار کر رہے ہیں۔میڈیا پر بھی پابندی ہے، زمینوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے، کراچی کو پانی فراہم کرنے کے لیےٹھٹھہ کے لوگوں کا پانی بند کیا جا رہا ہے۔جبکہ کینجھر جھیل پر سیاحت کے نام پر قبضہ کیا جا رہا ہے، تمام وسائل لوٹے جا رہے ہیں، لیکن ہم غلاموں کی طرح خاموش ہیں۔اس کانفرنس میں جو فیصلہ کیا جائے گا وہ سندھ محاذ اس کے ساتھ ہے۔
گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنما ڈاکٹر صفدر عباسی نے کہا کہ ہاکس بے کی زمینوں کی الاٹمنٹ ایک سودے بازی ہے جو سندھ حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے کی جا رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ اس سودے بازی کو کیسے توڑا جائے، میں کہوں گا کہ اس معاملے پر آگے بڑھیں، پارلیمنٹ یا جدوجہد، جوبھی ہو ہم ساتھ ہیں اور اس معاملے پر ہم سندھ کی تمام جماعتیں اور سندھ کے عوام ساتھ ہوں گے۔
عوامی تحریک کے مرکزی جنرل سیکرٹری نور احمد کٹیار نے اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں لاکھوں ایکڑ اراضی پر مختلف طریقوں سے قبضہ کیا جا رہا ہے۔سندھ کی زمینوں پر قبضہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے 2007 میں مقامی لوگوں کے حوالے سے منظور کی گئی قرارداد کی حکومت پاکستان کی جانب سے بار بار خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔کارپوریٹ فارمنگ کے منصوبے سندھیوں کے تاریخی وطن کو لوٹنے کی مذموم سازش ہے۔کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر سندھیوں سے زمینیں چھین کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہاکس بے کی 6 ہزار ایکڑ زمین ڈی ایچ اے کو دینے کے بجائے مقامی سندھی ورکرز کو دی جائے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک طرف زمینوں پر قبضہ کیا گیا ہے اور دوسری طرف سندھیوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے بوگس ڈیجیٹل مردم شماری کراکر جعلی اور فراڈی اعداد شمار جاری کیے گئے ہیں۔سندھ کے عوام اس جعلی ڈیجیٹل مردم شماری کے نام پر ڈیجیٹل دہشت گردی کو برداشت نہیں کریں گے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کراچی کے صدر قاری محمد عثمان نے کہا کہ یہ مطالبہ انتہائی جائز مطالبہ ہے۔قرآن میں ایک آیت ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ نہ چاہے۔میں شکوے کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ اب تمام جماعتیں متحد ہو جائیں ہم اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں جے یو آئی نے ہمیشہ اس سرزمین کے حقوق کی بات کی ہے اور ہر جدوجہد میںساتھ دیا ہے۔شہید خالد محمود سومرو بھی سندھ کے حقوق کی بات کرتے تھے۔ہم ان سے گفتگو میں کہا کرتے تھے کہ آپ قوم پرست ہیں یا جے یو آئی کے رہنما؟میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ جو مطالبات ہیں وہ سب جائز ہیں لیکن مطالبات کے لیےمضبوط تحریک ہونی چاہیے.آخر غریبوں کی زمین کیوں؟ ڈی ایچ اے کے پاس تو پورا ملک ہے۔
اے پی سی میں ہاکس بے کے مقامی رہنما محمد علی بھنڈ نے کہا کہ گاؤں والوں کے پاس 1917 کے دستاویزات بھی ہیں۔اس کے باوجود گاؤں والوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔
اے پی سی میں جئے سندھ رہنما اسلم خیرپوری سمیت دیگر سیاسی، سماجی رہنماؤں اور وکلاء نے شرکت کی۔