حیدرآباد (ویب ڈیسک): سندھ ترقی پسند پارٹی کراچی ڈویژن کا اہم اجلاس پارٹی چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں وائس چیئرمین حیدر شاھانی، ہوت خان گاڈھی، ڈاکٹر عبدالحمید میمن، قادر چنہ، ڈاکٹر سومار منگریو، اعجاز سامٹیو، خیر محمد مگسی، ڈاکٹر مظہر میمن، عاشق تھہیم اور بیر بخش بھلکانی نے شرکت کی۔ اجلاس میں کراچی ڈویژن کی سیاسی و تنظیمی صورتحال پر تفصیلی غور و فکر کیا گیا اور مستقبل کی حکمتِ عملی طے کرنے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ کراچی میں سندھی بستیوں کو اب تک ریگولرائز نہیں کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں سندھی خاندان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان بستیوں میں رہنے والے لوگوں کے پاس صاف پانی، بجلی اور گیس جیسی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں، جبکہ کئی بستیاں کچرے کے ڈھیروں اور گندگی میں جکڑی ہوئی ہیں۔ تعلیم اور صحت کی سہولیات کی کمی کے باعث خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ بے روزگاری کے سبب سندھی نوجوان غربت اور مایوسی میں مبتلا ہیں اور ہر وقت بے دخلی یا جبری نقل مکانی کا خطرہ ان پر ٹنگا رہتا ہے۔
ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ ایک مخصوص نسل پرست گروہ جان بوجھ کر سندھیوں کو کراچی سے پیچھے دھکیلنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کراچی سندھ کا دل ہے اور اسے کسی مخصوص گروہ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی کہ وہ کراچی میں مضبوط تنظیمی نیٹ ورک قائم کریں، سندھی عوام کے دکھ سکھ میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں اور خاص طور پر نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی جدوجہد پر توجہ دیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کراچی میں “سندھ ترقی پسند ہاؤس” قائم کیا جائے گا جو سیاسی اور تنظیمی سرگرمیوں کا مرکز ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ سندھی بستیوں کی ریگولرائزیشن کے لیے ایک منظم مہم شروع کی جائے گی اور کراچی ڈویژن میں پارٹی کے ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا جائے گا.