پشاور (ٹیک ڈیسک): خیبرپختونخوا میں ٹک ٹاکرز کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوگیا ہے۔ پولیس نے مردان میں 6 ٹک ٹاکرز کے خلاف مقدمہ درج کر کے ایک کو گرفتار بھی کر لیا۔جبکہ پشاور کے سینیر صحافی اور پشاور پریس کلب کے نائب صدر کے خلاف پیکا ایکٹ کے مقدمہ درج کیا گیا ہے. ڈی پی او مردان ظہور آفریدی کے مطابق ٹک ٹاکرز پر سوشل میڈیا پر فحش زبان، گالم گلوچ اور غیر اخلاقی گفتگو کرنے کا الزام ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک ٹک ٹاکر کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
ڈی پی او کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل کے سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے معاشرے میں منفی رجحانات فروغ پا رہے ہیں جس کے تدارک کے لیے قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جارہی ہے۔
جبکہ پشاور کے سینیر صحافی اور پشاور پریس کلب کے نائب صدر کے خلاف پیکا ایکٹ کے مقدمہ درج کیا گیا ہے.جس پر کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز ( سی پی این ای) نے پشاور کے سینیر صحافی اور پشاور پریس کلب کے نائب صدر کے خلاف پیکا ایکٹ کے مقدمہ درج کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار رائے پر قدغن قرار دیا ہے۔
سی پی این سی کے صدر سیکریٹری جنرل نے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ذوالفقار علی شاہ کی جانب سے ایف آئی اے کو دی گئی درخواست میں صحافی عرفان خان کی سوشل میڈیا ایکٹیوٹیز کو بنیاد بنا کر کارروائی کے مطالبے کو ریاستی عناصر کی جانب سے آزادی اظہار رائے کے آئینی اور جمہوری حق پر حملہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے اپنی ایک حالیہ ملاقات کے دوران سی پی این ای کو یقین دلایا تھا کہ ان کے صوبے میں پیکا ایکٹ کے تحت کسی صحافی کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی جبکہ عرفان خان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمے کا اندراج ان کے بیانیے کی نفی کرتا ہے۔
سی پی این ای صدر نے مطالبہ کیا کہ عرفان خان کے خلاف درج کیا جانے والا مقدمہ فی الفور واپس لیا جائے اور کسی بھی صحافی کے خلاف انتقامی کارروائی سے باز رہا جائے۔