کوئٹہ: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نےکہا ہےکہ عوام کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، عوام کے باہر نکلنے سے پہلے مسائل حل کرنا ہوتے ہیں، سیاسی مسائل کا حل آئین میں موجود ہے۔
کوئٹہ میں بلوچستان پیس فورم کے زیر اہتمام قومی ڈائیلاگ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ سیاست دشمنی میں تبدیل ہوجائے تو عوام کےمسائل رہ جاتےہیں، بدقسمتی ہےکہ معیشت کی بدحالی اور سیاست کی ناکامی انتہا کوپہنچ چکی، پاکستان کے غیر معمولی حالات کا مقابلہ غیر معمولی عمل سے کرنا پڑےگا۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہم سب حکومتوں میں رہے مگر ہم ملک کے مسائل حل نہ کرسکے، ہمیں دیکھناہےکہ 75 سال کے بعد کس طرح پاکستان کے مستقبل کو بہتر بنائیں، مشکل حالات کےسب ذمہ دار ہیں لیکن ایک دوسرے پر الزام لگانے سے معاملہ حل نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسائل کاحل بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ ہے، مسائل کا حل آئین میں ہے مگر ان کی بات کرنے والا موجود ہونا چاہیے، جب ملک میں انصاف کا نظام مفلوج ہوجائے تو کیا ہو، مسائل تب حل ہوں گے جب جس نمائندے کو ووٹ دیں گے وہی اسمبلی میں جائےگا، مسائل حل ہوں گے جب کروڑوں روپے دے کر سینیٹر نہیں بنیں گے۔
سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نےکہا کہ پارلیمنٹ کسی کو ایکسٹینشن دینے کے لیے فوری اکٹھی ہوسکتی ہے تو مسائل کے حل کے لیے کیوں نہیں، عوام اور سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطہ ٹوٹ گیا ہے، ہم سیاسی بریک ڈاؤن کے قریب کھڑے ہیں، ہم سیاسی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوچکے ہیں۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر نےکہا کہ آج بھی لوگوں سے سچ نہیں بولا جا رہا،اس سچ کی ملک کو ضرورت ہے، عدالتوں کو انسانی حقوق کی ذمہ داری دی گئی وہ بھی خاموش ہیں، عدالتیں بھی ان مسائل کی جانب توجہ نہیں دے رہیں، معاشرہ بکھرتا جا رہا ہے، ہم نے لوگوں کی گفتگو کو سننا ہے بلکہ ان کا حل بھی نکالناہے۔
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ نہیں پتا کہ مسائل کیسے حل ہوں گے، مگر ان مسائل کا حل نکالنا ہے ، سب سیاسی جماعتیں اور اسٹیک ہولڈرز ان مسائل کا حل نکالیں گے۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ہمیں ہر غریب آدمی کو حق دینا ہے، ایسا پاکستان بناناہےکہ جس میں لوگ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوں، پاکستان کو عزت دار قوم بننےکے لیے اپنے پاؤں پرکھڑا ہونا پڑےگا، اس کے لیے ہرپاکستانی کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرناہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے پاکستان میں تصورکرنا پڑےگا کہ ہربچہ اسکول میں ہو، نئے پاکستان کے تصور میں ہر شخص کو روزگار دینا ہوگا، پاکستان کے نئے تصور میں ہر بچے کو تعلیم دینا ہوگی، ہمیں اسکولوں کے نظام کو بھی بہترکرنا ہوگا۔
جمعیت علمائے اسلام کے رہنما نواب اسلم رئیسانی نےکہا کہ وفاق اس وقت مضبوط ہوگا جب وفاقی اکائیاں مضبوط ہوں گی ، ہمیں یہ دیکھنا ہے کیا ہمارے پاس اختیار ہے کہ پاکستان کا نیا تصور کرسکیں۔