سندھ کے مری کہلائے جانے والے گورکھ ہل اسٹیشن پر دو سال بعد برف باری سے موسم دلفریب ہوگیا۔
گورکھ ہل پر برفباری سے جہاں سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا وہیں سیاحوں کی بڑی تعداد بھی موسم کا لطف اٹھانے پہنچ گئی۔
انچارج گورکھ ہل اسٹیشن جمن جمالی کا کہنا ہے کہ گورکھ ہل اسٹیشن پر تقریباً 2 سال کے بعد ہلکی برفباری ہوئی ہے۔
دوسری جانب سندھ کے پرفضا مقام گورکھ ہل اسٹیشن کو کئی برس گزرجانے کے باوجود بہترین تفریح گاہ نہ بنایا جاسکا تاہم گورکھ ہل ڈولپمنٹ اتھارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہاں سیاحوں کے لیے تمام سہولتیں فراہم کردی گئیں ۔
ضلع دادو کے شمال مغرب میں کیرتھرکی پہاڑی پر سطح سمندر سے 5 ہزار 688 فٹ بلندی پر سندھ کا پرفضامقام گورکھ ہل اسٹیشن واقع ہے ، جسے سندھ کا مری کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ یہ مقام سیاحوں کے لیے پرکشش ہے اور آمدنی کا بڑا ذریعہ بھی بن سکتا ہے ۔
اس مقام کو سیاحوں کے قابل بنانے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کرنے کے دعوے کئے گئے لیکن معاملہ صرف کاغذوں کی حد تک ہی رہا۔