کراچی (نجات نیوز): پاکستان متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم)اور پیپلزپارٹی کے درمیان حلقہ بندیوں پر ڈیڈلاک برقرار رہیں، گزشتہ رات ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے . تفصیل کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت بلاول ہاﺅس کراچی میں حکومتی اتحادیوں کا اجلاس ہوا، جس میں گورنر سندھ سمیت متحدہ کے وفد، مسلم لیگ ن کے رہنماﺅں، وزیراعلیٰ سندھ سمیت دیگر شریک ہوئے ۔
ایم کیو ایم نے کراچی بھر میں73 یونین کونسلز کی حلقہ بندیاں تبدیل کرنے کا مطالبہ رکھ دیا،ایم کیو ایم کی طرف سے خواجہ اظہاراور سابق میئر وسیم اختر نے ایم کیو ایم کا موقف پیش کیا، ایم کیو ایم کا موقف تھا کہ سندھ حکومت چاہے تو قانون سازی کے ذریعے حلقہ بندیوں میں تبدیلی ممکن ہے۔
سندھ حکومت نے کہاکہ الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق الیکشن کا اعلان ہونے کے بعد حلقہ بندیوں میں تبدیلی ممکن نہیں،اس طرح ہوا تو صوبے بھرسے اعتراض ہونگے، صرف کراچی میں حلقہ بندیوں کی تبدیلی سے عدالتی کیسز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سندھ حکومت نے صارف انکار کرتے ہوئے کہاکہ بلدیاتی الیکشن کا شیڈول جاری ہوچکا ہے اب نئی حلقہ بندیاں نہیں ہوسکتی ،میرپورخاص سکھر لاڑکانہ اور شہید بینظیر آباد میں بلدیاتی الیکشن ہوچکے ہیں ،بلدیاتی ایکٹ میں کس طرح ترامیم کریں جب پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات ہوچکے ہیں ،الیکشن کمیشن کے شیڈول کے تحت بلدیاتی الیکشن 15 جنوری کو ہونگے ،جب عدالت نے بلدیاتی الیکشن کرانے کا فیصلہ سنا دیا تو سندھ حکومت کس طرح جواب دے سکتی ہے ۔