جھل مگسی (ویب ڈیسک): جھل مگسی میں زمینی تنازعہ پر قتل ہونیوالےامداد حسین جویوکا قتل کا مقدمہ ایم این اے نواب خالد خان مگسی ایم پی اے بلوچستان اسمبلی نوابزادہ طارق خان مگسی علی گل راہیجہ مگسی ہزار خان راہیجہ سمیت سات افراد کے خلاف مقتول کی بیٹی ارباب کی مدعیت میںدرج ہوگیا ہے .
امدادحسین جویو جو اپنی زمینوں پر قبضے کے خلاف 2017 سے قانون کے دروازے کھٹ کھٹاتے رہے۔انہیںاس ملک کی عدالتوں سے انصاف تو نہیںملا مگر جھل مگسی کےاس مجاہد شخص احمد جویہ کو قتل کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر اس سے متعلق خبریں اور ویڈیوز گشت کر رہی ہیں . جس میں عوام احمد جویہ کے قتل کا ذمہ دار مگسی نوابوں کو ٹھہرایا جارہا ہے .
مگر ضلع کی انتظامی اُمور پر مگسی نوابوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے ایک طرف نہ ان کی میت کو تدفین کرنے دیا جارہا تھا اور نہ ہی اُن کے لواحقین کو ضلع میں رہنے دیا جارہا ہا تھا.
لیکن عوامی طاقت کے سامنے کوئی طاقت ٹک نہیں سکتی. سوشل میڈیا سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں عوامی رد عمل کے آگے سرکاری مشنری کو بالآخر اپنے گھٹنے ٹیکنے پڑے اورشہید کسان امداد جویا قتل کیس درج کرنا پڑگیا .اس مقدمہ میں ایم این اے نواب خالد خان مگسی ایم پی اے بلوچستان اسمبلی نوابزادہ طارق خان مگسی علی گل راہیجہ مگسی ہزار خان راہیجہ سمیت سات افراد کو ایف آئی آر میںنامزد کیا گیا ہے.
ان ویڈیوز میں پولیس کو بھی جاگیرداروں اور نوابوں کا فریق بن کر مقتول احمد جویا کی لاش کی تدفین روکتے اور مقتول کے سوگوار خاندان بالخصوص خواتین کو تشدد اور ہراساں کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے .
احمد جویہ کو اپنے حقوق مانگنے کے جرم میں قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو دفنانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔
لواحقین میں موجود احمد جویہ کی بہادر بیٹیوں نے اپنے باپ کی لاش کو پولیس کی تحویل سے اٹھایا اور کندھوں پر اٹھا کر قبرستان چلی گئیں۔
بتایا جارہا ہے کہ جھل مگسی واقعہ میں شہید کیئے گئے کسان احمد جویہ کی میت گاڑی کیٹل فارم پولیس نے چھین لی۔جس کے بعد اسکے ورثہ شہید کے لاش کو اسے دوبارہ پیدل ڈیرہ مراد لائے۔
اس تمام تر معاملے کے دوران پولیس کا کردار مشکوک اور قاتلوں کے فریق کے طور پر بتایا جارہا ہے .