کراچی ایسٹ (نجات نیوز رپورٹ): رمضان المبارک میں بھی سوئی گیس کی بدترین بندش جاری ہے۔ سحری اور افطاری کے وقت سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ سے گھریلو زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ شہری افطاری اور سحری کے لیے ہوٹلوں سے کھانا لینے پر مجبور ہو گئے۔ذرائع کے مطابق سحر ی و افطار کے دوران گیس کی عدم دستیابی اور پریشر کم ہونے سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سہراب گوٹھ، گڈاپ، ملیر ، کورنگی، دہلی کالونی، گذری، اختر کالونی، صدر، گلشن اقبال، کیماڑی سمیت کراچی بھر اورگردونواح میں رمضان المبارک میں بھی گیس کی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے عذاب کے ہوتے ہوئے گیس کی لوڈ شیڈنگ کے باعث سحری و افطار کرنا لوگوں کے سروں پر انتظامی ہتھوڑے برسانے جیسا ہے .
لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ گھروں میں بیماروں اور بوڑھوں بشمول معصوم بچے جو روزہ نہیں رکھ سکتے ان کے لیے کھانا پکانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔
اس حوالے سے گڈاپ کے سماجی رہنما عبدالنبی رند، منظور شاہانی سلطان سرہیو، یوسف بلوچ اور دیگر نے بتایا کہ رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوتے ہی بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے باعث کم آمدنی اور مہنگائی کے مارے لوگ لکڑیاں خریدنے پر مجبور ہیں ، مگر وہ بھی بہت مہنگی ہونے کی وجہ سے عوام کا جینا دوبھر ہوگیا ہے . عوام تین کے بجائے دو وقت کی روٹی بھی مکممل طور پر نہیں کھا پا رہے .
رپورٹ کے مطابق بہت سے لوگ اپنے گھروں میں گیس سلنڈر اور دیگر متبادل ذرائع استعمال کر رہے ہیں اور گیس کی فراہمی نہ ہونے کی صورت میں اور کم پریشر والے گیس سلنڈر کھانا پکانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، لیکن یاد رکھا جائے کہ گنجان آباد علاقوں میں گیس سلنڈروں کا استعمال انتہائی خطرناک عمل ہے اور اس سےحادثے کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔
شہریوں نے وفاقی حکومت بالخصوص وزیر اعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے نوٹس لیتے ہوئے ضرورت کے مطابق گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔