اسلام آباد (ٹیکڈیسک): پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) سے منسوب کی گئی ایک مبینہ پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا کہ ریگولیٹر نے اعلان کیا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک ماہ میں ایک ہی فون پر5 سے زائد مختلف سمز (Subscriber Identity Modules) استعمال کرے گا تو حکام اس موبائل فون کو بلاک کر دیں گے۔18 اگست کو ایک فیس بک صارف نے ایڈوائزری شیئر کی جو مبینہ طور پر پی ٹی اے کی جانب سے جاری کی گئی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ اگر کوئی صارف ایک ماہ کے دوران کسی ایک موبائل فون میں پانچ سے زائد سمز ڈالے گا تو اس ڈیوائس کا آئی ایم ای آئی بلاک کر دیا جائے گا اور نیٹ ورک سروسز معطل کر دی جائیں گی۔
مبینہ ایڈوائزری میں درج تھا: ”معزز کسٹمر، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے قوانین کے مطابق ایک موبائل فون میں ایک مہینے میں زیادہ سے زیادہ 5 مختلف SIM استعمال کی جاسکتی ہیں، اگر 5 سے زیادہ SIM استعمال ہوئیں تو موبائل IMEI بلاک ہو سکتا ہے اور نیٹ ورک سروس بند ہوجائے گی۔“
اس میں صارفین کو یہ ہدایت بھی دی گئی تھی کہ وہ ایک ہی ڈیوائس میں بار بار سمز تبدیل کرنے سے گریز کریں، مبینہ پریس ریلیز پر پی ٹی اے کا لوگو (logo) بھی موجود تھا۔
آن لائن گردش کرنے والی یہ دستاویز پی ٹی اے کی جانب سے جاری نہیں کی گئی، اس بات کی تصدیق خود PTA اور پاکستان میں نجی ٹیلی کمیونیکیشن سروس فراہم کرنے والی کمپنی جاز (Jazz) نے بھی کی ہے۔
پی ٹی اے کی ڈائریکٹر کمیونیکیشنز زیب النساء نے جیو فیکٹ چیک کو بتایا کہ آن لائن گردش کرنے والے دعوے غلط ہیں، ان کا کہنا تھا: ”سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پوسٹ گمراہ کن ہے۔“ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی اے نے ایسی کوئی ایڈوائزری جاری نہیں کی۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ PTA آئی ایم ای آئی ڈپلیکیشن (IMEI duplication) اور کلوننگ (cloning) پر نظر رکھتا ہے اور ضرورت پڑنے پر کارروائی کرتا ہے، اس میں ڈپلیکٹ یا کلون شدہ آئی ایم ای آئی کو بلاک کرنا، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (FIA) کے ساتھ چھاپے مارنا اور عوامی آگاہی مہم چلانا شامل ہے۔
اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر جاز کے ترجمان نے بھی جیو فیکٹ چیک کو تصدیق کی کہ پی ٹی اے کی جانب سے ایسی کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا: ”پاکستان میں اس وقت ایسا کوئی تکنیکی نظام نافذ نہیں ہے جو ایک موبائل ڈیوائس میں ماہانہ استعمال ہونے والی سمز کی تعداد کو محدود کرتا ہو۔“
اس کے علاوہ، پی ٹی اے کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے اس ایڈوائزری کو جعلی قرار دیا۔ وضاحت یہاں دیکھی جا سکتی ہے:
آزادانہ تصدیق اور سرکاری بیانات سے واضح ہے کہ PTA نے ایک ماہ میں پانچ سے زائد سمز استعمال کرنے والے صارفین کے لیے آئی ایم ای آئی (IMEI) بلاک کرنے کا کوئی اعلان نہیں کیا۔