کشمور – کراچی (ویب ڈیسک): سندھ میں ہندو برادری کے 4 افراد کو اغوا کرلیا گیا، کشمور میں دو روز سے احتجاجی دھرنا جاری ہے۔سندھ کے شمالی علاقے میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت بالخصوص اغوا کے واقعات کے خلاف صوبائی سرحدی شہر کشمور میں دو روز سے دھرنا جاری ہے۔دھرنے کے باعث سندھ، پنجاب اور بلوچستان آنے اور جانے والی ٹریفک بندہے جس کے باعث شاہراہوںپر گاڑیوں قطاریں لگ گئی ہیں۔تاہم پولیس ابھی تک مغوی افراد کو تلاش نہیں کر سکی ہے جبکہ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک مغوی افراد کی واپسی نہیں ہوتی وہ دھرنا جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب کشمور دھرنا اُس وقت عوامی طاقت میںتبدیل ہوگیا جب کشمور دھرنے کی حمایت میں سندھ بھر میں مختلف مقامات پر بھی دھرنے اور احتجاج شروع ہوگیا.
جسقم کے سینئر رہنما ڈاکٹر نیاز کالانی کی قیادت میںکنڈیارو کے مقام پر بھی دھرنا دیا گیا ہے جس کی بدولت قومی شاہراہ مکمل طور پر بلاک ہوگئی ہے.
جس میںسب اہم دھرنا تین تلوار کراچی کا تھا جو فی الحال صوبائی نگران وزیر داخلہ اور کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کی جانب سے سخت ایکشن کی یقین دہانی پر ملتوی کیا گیا ہے .
جبکہ آج سندھ بھر سے مختلف قافلے بالخصوص سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے مرکزی صدر سید زین شاہ کی قیادت میں قافلہ جامشورو سے کشمور پہنچا اور دھرنے میںاب تک شامل ہے .
دوسرا قافلہ جئے سندھ قومی محاذ (جسقم) کے چیئرمین صنعان خان قریشی کی قیادت میں کشمور میںپہنچا ہے ، جس کے آنے سے دھرنے کا ماحول پُرجوش ہوکر شدید نعرے بازی کر رہا ہے .
جبکہ لاڑکانہ سے جسقم خواتین ونگ کی سربراہ نایاب سرکش کی سربراہی میں بھی قافلہ کشمور دھرنے میں شامل ہوا ہے .
دھرنے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ کشمور اور کندھ کوٹ اضلاع سے ہندو برادری کے کم از کم چار افراد کو اغوا کیا گیا ہے جن میں 24 سالہ ساگر کمار، جگدیش کمار، دیپ کمار اور ڈاکٹر منیر شامل ہیں۔دھرنے کو سول سوسائٹی کے علاوہ سیاسی، قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے اور مختلف رہنما بھی اس میں شریک ہیں۔
بیس سالہ ساگر کمار کے بھائی راج کمار نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے بھائی کو مسلح افراد نے 9 اگست کو اس وقت اغوا کیا جب وہ قریبی ہوٹل میں کھانا کھا رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ اغوا کار موٹر سائیکلوں پر سوار تھے جن کے ہاتھوں میں کلاشنکوفیں تھیں۔ وہ بڑی آسانی سے میرے بھائی کو بھرے بازار سے اغوا کرکے لے گئے اور شہر سے باہر نکال دیاحالانکہ ہر جگہ پولیس چوکیاں قائم ہیں۔
دوسری جانب ایس ایس پی امجد شیخ نے آج دھرنے میں آکر دھرنا منتظمین سے بات چیت کی اور سختی سے دھرنا ختم کرنے کا کہا مگر منتظمین کی جانب سے مغویوں کی بازیابی تک دھرنا جاری رکھنے کے جواب پر ایس ایس پی کشمور امجد شیخ مایوس ہوکر واپس چلے گئے .
افواہیں یہ بھی ہیںکہ ایس ایس پی نے منتظمین کو دھرنا ختم کرنے کے لیے سختی برتنے کی دھمکی بھی دی جس پر سندھ بھر میںاشتعال پھیل گیا ہے اور نتیجتاََ حیدرآباد میں بھی دھرنا شروع ہوگیا ہے.
اسی طرح دیگر شہروں میںبھی قومی شاہراہ اور پریس کلب کے سامنے دھرنے جاری ہیں.
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کراچی میں بلاول ہاؤس کے سامنے بلاول چورنگی کلفٹن پر بھی دھرنا لگانے کا اعلان سامنے آیا ہے .