حیدرآباد (ویب ڈیسک): سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے گزشتہ روز قومی اسمبلی سے پاکستان میری ٹائم زونز بل 2022 کی منظوری پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کو صوبوں کی امالک پر قبضہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ پاکستان ایک وفاق ہے جس کے صوبوں کی اپنی جغرافیائی حدود ہیں۔ صوبے ان حدود میں زمین، پانی اور تمام وسائل کے مالک ہیں۔ فیڈریشن ان پر ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میری ٹائم زونز بل میں وفاق کو سمندر کی حدود کا تعین کرنے کا اختیار دینا یا وہاں غیر ملکی آبادکاری کی حمایت کے لیے سمندری جزیرے یا نئے مصنوعی جزیرے بنانا اور ان کی ملکیت کے حوالے سے وفاق کے حق میں قوانین بنانا غلط ہے۔ بل کے تحت وفاقی حکومت کو سمندر میں مصنوعی جزیروں پر خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کا اختیار دیا گیا ہے۔ جو نہ صرف صوبوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ہم اسے سندھ میں منظم طریقے سے غیر ملکی بستیاں بسانے کی سازش سمجھتے ہیں۔
ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ عمران حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے سندھ کے جزیروں پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن سندھ کے عوام نے اپنے شدید احتجاج سے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔ اب پی ڈی ایم کی حکومت ایک بار پھر ایسی سازش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ ہزاروں سال پرانی تہذیب کے ساتھ ایک تاریخی فطری مادر وطن ہے اور اس کی آبادی کو تبدیل کرنے کی کوئی سازش برداشت نہیں کی جائے گی۔
اگر پاکستان میری ٹائم زونز بل 2022 کے ذریعے سندھ کے جزیروں پر قبضہ کرنے یا قدیم رہائشی ماہی گیروں کو بے دخل کرنے اور سندھ کی سرحدوں کی خلاف ورزی کا سوچے گا تو سندھ اس کے خلاف آواز اٹھائے گا اور عوامی جدوجہد کے ذریعے ان سازشوں کو ناکام بنائے گا۔