کراچی (ویب ڈیسک): سندھ کے تعلیمی بورڈز کو آخر کب تک اڈھاک ازم کی بنیاد پر چلایا جائے گا؟ وزیرِاعلیٰ سندھ ، اس جانب توجہ دے کر صوبے کے بچوں کا مستقبل بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن ( سپلا) کے مرکزی صدر منور عباس، سیکریٹری جنرل شاہجہاں پنھور، سید عامر علی شاہ، پروفیسر الطاف کھوڑو، نجیب لودھی ، عصمت جہاں، سید جڑیل شاہ، لعل بخش کلہوڑو، حمیدہ میربحر، عزیز میمن، خرم رفیع،عبدالمنان بروہی، سعید احمد ابڑو، رسول قاضی ، نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں سندھ کے تعلیمی بورڈز کی حالتِ زار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کتنی بد قسمتی ہے کہ سندھ کے آٹھ تعلیمی بورڈز میں گزشتہ 6 برس سےتمام کنٹرولرز، سیکریٹریز اور آڈٹ افسران اڈھاک ازم کی بنیاد پر چلائے جارہے ہیں۔
موزوں اور اہل امیدواراں کی جگہ ان پوسٹوں پر یا تو جونیئر افسران ہیں یا دوسرے محکموں سے آئے ہوئے افراد براجماند ہیں جب کہ پانچ تعلیمی بورڈز میں گزشتہ دو برس سے کوئی مستقل چئیرمین ہی نہیں ہے۔سپلا کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ ان تمام عہدوں پر اہل اور موزوں افسران کی عدم موجودگی کے سبب صوبے بھر کے بچوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔ آئے روز جعلی مارکس شیٹ کے اجرا اور نتائج میں ہیرا پھیری کی خبروں نے سندھ کے روشن چہرے کو مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔
سپلا کے رہنماؤں نے وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے اپیل کی کہ وہ صوبے کے روشن مستقبل کی خاطر اس طرف توجہ دیں اور سندھ کے تمام بورڈز میں مستقل ناظمِ امتحانات ، سیکریٹری بورڈز، آڈٹ افسران میرٹ پر تعینات کریں جبکہ دو تعلیمی بورڈز میں مستقل چیئرمین بورڈ بھی تعینات کریں۔