Nijat News
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • دنیا
  • پاکستان
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • صحت
  • کاروبار
  • ویڈیوز
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • دلچسپ و عجیب
  • بلاگ
  • رازداری کی پالیسی
  • Contact
Reading: عدالتی اصلاحات بل: فل کورٹ بنانے اور جسٹس مظاہرکو ہٹانے کی استدعا مسترد
Share
Nijat NewsNijat News
Font ResizerAa
Search
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • دنیا
  • پاکستان
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • صحت
  • کاروبار
  • ویڈیوز
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • دلچسپ و عجیب
  • بلاگ
  • رازداری کی پالیسی
  • Contact
Follow US
© 2022 Nijat News. Ruby Design Company. All Rights Reserved.
Nijat News > پاکستان > عدالتی اصلاحات بل: فل کورٹ بنانے اور جسٹس مظاہرکو ہٹانے کی استدعا مسترد
پاکستان

عدالتی اصلاحات بل: فل کورٹ بنانے اور جسٹس مظاہرکو ہٹانے کی استدعا مسترد

Published May 2, 2023
Tags: 8 مئی تک جواب طلب 9 سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری Featured بینچ کی تعدادکم بھی کی جاسکتی ہے عدلیہ کو اس قانون پر تحفظات
Share
SHARE

اسلام آباد (ویب ڈیسک): سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 (چیف جسٹس کے اختیارات یا عدالتی اصلاحات بل) کے خلاف تین مختلف آئینی درخواستوں کی سماعت میں سپریم کورٹ نے فل کورٹ بنانے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں اور وکلا تنظیموں سے 8 مئی تک جواب طلب کرلیا۔چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 8 رکنی لارجر بینچ نے 3 آئینی درخواستوں کی سماعت کی، بینچ میں جسٹس اعجازالاحسن ، جسٹس منیب اختر ، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اظہر حسن رضوی اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں۔سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے 13 اپریل کو مجوزہ قانون پر عمل درآمد روک دیا تھا۔

آج سماعت کا آغاز ہوا تو اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے بتایا کہ کچھ فریقین کے وکلا ویڈیولنک پر پیش ہوں گے۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ کوئی آخری سماعت نہیں، سب کو سنیں گے، ہمارا گزشتہ سماعت کا حکم امتناع برقرار ہے، اس کیس میں عدلیہ کی آزادی سمیت دیگر اہم نکات سامنے آئے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ ایک منفرد کیس ہے، سپریم کورٹ کے رولز سے متعلق قانون واضح ہے، تمام فریقین کے وکلا تحریری دلائل جمع کرائیں، ریاست کے تیسرے ستون یعنی عدلیہ کو اس قانون پر تحفظات ہیں۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی قانون سازی سے متعلق پارلیمنٹ کی کارروائی کے منٹس پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

وکیل طارق رحیم کا کہنا تھا کہ عدالتی اصلاحات بل قانون کا حصہ بن چکا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکم نامہ عبوری نوعیت کا تھا، جمہوریت آئین کے اہم جزو ہے، آزاد عدلیہ اور وفاق بھی آئین کے اہم جزو ہیں، دیکھنا ہےکہ کیا عدلیہ کا جزو تبدیل ہوسکتا ہے؟ عدلیہ کی آزادی بنیادی حق ہے۔

چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پاکستان بارکونسل نے سینیئر ججز کو بینچ میں شامل کرنے کی استدعا کی، حسن رضا پاشا کا کہنا تھا کہ اس بینچ میں شامل ایک جج کے خلاف 6 سے زائد ریفرنس دائر ہوچکے ہیں، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو بینچ سے الگ کیا جائے، بینچ میں 7 سینیئرترین ججز شامل ہوں تو کوئی اعتراض نہیں کرسکےگا۔

عدالت نے پاکستان بار کی فل کورٹ بنانے اور جسٹس مظاہرنقوی کو بینچ سے الگ کرنے کی استدعا مستردکردی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کسی بھی جج کے خلاف ریفرنس آنےکی کوئی قانونی حیثیت نہیں، جب تک ریفرنس سماعت کے لیے مقرر نہ ہو اس کی کوئی اہمیت نہیں، سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں بینچ اس بارے فیصلہ دے چکا ہے، سیاست نے عدالتی کارروائی کو گندا کر دیا ہے، سپریم کورٹ کے ججزکا جاری کیا گیا حکم سب پرلازم ہے۔ سات سینیئر ججز اور فل کورٹ بنانا چیف جسٹس کا اختیار ہے،افتخار چوہدری کیس میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ ریفرنس صرف صدر مملکت دائر کرسکتے ہیں، کسی جج کے خلاف ریفرنس اس کوکام کرنے سے نہیں روک سکتا، سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے آنے تک جج کوکام کرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس میں بھی عدالت نے یہی فیصلہ دیا تھا، ججز کے خلاف شکایات آتی رہتی ہیں، مجھ سمیت سپریم کورٹ کے اکثرججز کے خلاف شکایات آتی رہتی ہیں، سیاسی لوگ انصاف نہیں من پسند فیصلے چاہتے ہیں، انتخابات کے مقدمے میں بھی کچھ ججز کو نکال کرفل کورٹ بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا، سپریم کورٹ کے ججز کا فیصلہ عدالت کا فیصلہ ہوتا ہے، ہر ادارہ سپریم کورٹ کے احکامات پرعملدرآمد کا پابند ہے، پیرکو ہم کیس شروع کریں گے پھرسب معاملات کا جائزہ لیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ قانون سازی کے اختیار سے متعلق وفاقی فہرست کی کچھ حدود وقیود بھی ہیں، فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ کے سیکشن 55 کا بھی جائزہ لیں، یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوسکتی کہ آزاد عدلیہ آئین کا بنیادی جزو ہے، الزام ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئین کے بنیادی جزو کی قانون سازی کے ذریعے خلاف ورزی کی گئی۔

سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں اور وکلا تنظیموں سے 8 مئی تک جواب طلب کرلیا۔حسن رضا پاشا نےکہا کہ اگرعدلیہ نے میری بات کا برا منایا تو معذرت چاہتا ہوں۔ چیف جسٹس نےکہا کہ ہم ناراض نہیں ہوتے، ہم تو چلے جائیں گے، بار کونسلز ادھر ہی رہیں گی، ہم نہیں ہوں گے، سپریم کورٹ بارنے ادارے کا تحفظ کرنا ہے۔

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی 13 اپریل کی حکم امتناع واپس لینے کی استدعا بھی مسترد کردی۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پہلے سمجھا تو دیں کہ قانون کیا ہے اورکیوں بنا؟ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کا کہنا تھا کہ عدالت بینچ بڑھانے پر غور کرے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بینچ کی تعدادکم بھی کی جاسکتی ہے،گزشتہ کیس میں جب فل کورٹ کی درخواست تھی وہ باعث شرمندگی تھی کہ اے بی سی جج کو شامل نہ کیا جائے، اگرسپریم کورٹ کے ججزکا احترام نہ کیا گیا توپھریہ انصاف کا مطالبہ نہیں ہوگا، سیاسی جماعتیں من پسند فیصلوں کے لیے پک اینڈ چوز چاہتی ہیں۔

خیال رہے کہ 14 اپریل کو عدالت نے 9 سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ قانون پرکسی بھی انداز میں تاحکم ثانی عمل درآمد نہیں ہوگا ، آٹھ صفحات کے پیشگی حکم امتناع میں کہا گیا کہ چیف جسٹس کے اختیارات کے بارے میں بل کو جس لمحے صدر کی منظوری مل جاتی ہے یا (جیسا کہ معاملہ ہو) یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس طرح کی منظوری دے دی گئی ہے، اسی لمحے سے اور اگلے احکامات تک جو ایکٹ وجود میں آئے گا، وہ نہیں ہوگا اور نہ ہی کسی طریقے سے اس پر عمل کیا جائےگا۔

آٹھ رکنی بینچ نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کو اس کے صدر کےذریعے پاکستان بار کونسل کو اس کے وائس چیئرمین کے ذریعے نوٹس جاری کیا جب کہ 9سیاسی جماعتوں کو بھی نوٹس جاری کیا، حکم نامے میں کہا گیا کہ اگر یہ سیاسی جماعتیں چاہیں تو اپنے وکیل کے ذریعے حاضر ہو سکتی ہیں، ان 9 سیاسی جماعتوں میں پاکستان مسلم لیگ (ن) پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز ،پاکستان تحریک انصاف، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ،بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ق) شامل ہیں۔

TAGGED:8 مئی تک جواب طلب9 سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاریFeaturedبینچ کی تعدادکم بھی کی جاسکتی ہےعدلیہ کو اس قانون پر تحفظات
Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article نشہ کیخلاف آگاہی کیلیے کھلاڑی نے خود کو شیشے میں بند کرلیا
Next Article نوشکی میں دستی بم حملہ، پی ٹی سی ایل کی عمارت کو نقصان
Leave a Comment

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

پاپولر

’فیفا ورلڈ کپ 2022‘ کا آفیشل گانا ’لائٹ دی اسکائے‘ ریلیز

فیڈریشن انٹرنیشنل فٹ بال ایسوسی ایشن‘ (فیفا) کے عالمی ورلڈ…

October 8, 2022
سونے کے سکّے دینے والی آٹو میٹڈ ٹیلر مشین

بھارت میں سونے کے سکے نکالنے والی پہلی ’اے ٹی ایم‘ متعارف

بھارت میں پہلی بار سونے کے سکّے دینے والی آٹو…

December 15, 2022
Imran Khan Speech

جنرل باجوہ کے NRO II میں تما گندے عناصر کو “ڈرائی کلین” کر دیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان…

December 15, 2022

خاص آپ کے لیے

پاکستان

پنجاب حکومت کا فیصلہ:عمران خان سےملاقاتوں پر پابندی

راولپنڈی(ویب ڈیسک): بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی گئی۔ذرائع کے مطابق…

March 12, 2024
انٹرٹینمنٹ

آسکر ایوارڈ: 62 سال بعد قالین کا سرخ رنگ تبدیل

لاس اینجلس (شوبز ڈیسک): آسکر ایوارڈ کی 60 سالہ تاریخ میں پہلی بار قالین کا سرخ رنگ تبدیل کر دیا…

March 12, 2023
پاکستانتازہ ترین

عمران کو IGپراعتمادنہیں توپولیس سکیورٹی کیوں لی ہے:عامر میر

لاہور(ویب ڈیسک): پنجاب کے نگران وزیر اطلاعات عامر میر نے کہا ہے کہ عمران خان کے گھر پر چھاپے کی…

March 23, 2023
دنیا

طاقتور ترین سمندری طوفان اوٹس میکسیکو سے ٹکرا گیا، 27 افراد ہلاک

(ویب ڈیسک): طاقتور سمندری طوفان اوٹس شمالی امریکی ملک میکسیکو کے تفریحی مقام اکاپولکو سے ٹکرایا گیا جس کے نتیجے…

October 27, 2023
Nijat News

فہرست

  • تازہ ترین
  • دنیا
  • پاکستان
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • صحت
  • کاروبار
  • ویڈیوز
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • دلچسپ و عجیب
  • بلاگ

 

  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • دلچسپ و عجیب
  • بلاگ

 

  • کھیل
  • صحت
  • کاروبار
  • ویڈیوز

فہرست

  • تازہ ترین
  • دنیا
  • پاکستان
  • انٹرٹینمنٹ

© 2022 Nijat News.  All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?