(ویب ڈیسک): اسرائیل فلسطین جنگ بندی کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس کی قرارداد منظور نہ کی جاسکی۔ غزہ اسرائیل جنگ پر سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے لیے روسی قرارداد ناکام ہوگئی۔روسی قرارداد میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور انسانی امداد کی ترسیل کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
قرارداد میں عام شہریوں کے خلاف تشدد،دہشتگردی کی مذمت کی گئی تھی جبکہ غزہ سے عام شہریوں کے محفوظ انخلا کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق روسی قرارداد میں فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کا نام نہیں لیا گیا۔قرارداد کی منظوری کے لیے 9ووٹ درکار تھے، تاہم روسی قرارداد کے حق میں 5 اور مخالفت میں 4 ووٹ ڈالے گئے۔امریکا،برطانیہ،فرانس اور جاپان نے روسی قرار داد کی مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ چین،متحدہ عرب امارات، گبون اور موزمبیق نے حمایت کی۔
سلامتی کونسل کے 6 رکن ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔قرار داد کی منظوری کے لیے مستقل اراکین کی جانب سے ویٹو نہ ہونا بھی ضروری ہے۔رپورٹس کے مطابق غزہ جنگ پر برازیل کی قرارداد پر ووٹنگ منگل تک مؤخر کر دی گئی ہے۔دوسری جانب قرار داد ناکام ہونے پر روسی مندوب نے کہا کہ آج پوری دنیا منتظر تھی کہ سلامتی کونسل خونریزی کے خاتمے کے لیے اقدام کرے گی لیکن مغربی ممالک کے نمائندوں نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
دوسری جانب اسرائیل حماس جنگ پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر ایک ہزار امریکی شہریوں نے اسرائیل چھوڑ دیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حماس ملٹری ونگ کے ترجمان نے دعویٰ کیاہےکہ غزہ میں 250 کے قریب اسرائیلی اور دیگر غیر ملکی یرغمال ہیں، ان میں سے 22 یرغمالی غزہ پراسرائیلی بمباری میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ملٹڑی ونگ کے ترجمان کے مطابق یرغمالیوں کو اسرائیلی جیلوں سےفلسطینیوں کی رہائی کے بدلے رہاکیا جائےگا۔
دوسری جانب لبنان کی مزاحتمی تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل پر شدید حملے، ٹینک اور انٹیلی جنس کے اہداف کو نشانہ بنانے کی ویڈیو جاری کردی ہے۔رپورٹس کے مطابق حملے کے وقت ٹینک میں موجود فوجیوں کی تعداد معلوم نہیں ہوسکی، اس کے علاوہ سرحدی علاقوں میں فوجی گاڑیاں بھی چن چن کر نشانہ بنائی گئیں۔
واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت جاری ہے اوربمباری سے شہید فلسطینیوں کی تعداد 2 ہزار 800 سے تجاوز کر گئی ہے ۔
جبکہ ایران نے اسرائیل کے خلاف چند گھنٹوں میں کارروائی کی وارننگ دے دی۔ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبدالہیان نے کہا کہ غزہ میں اسرائیل کے جرائم پر خاموش تماشائی نہیں بنے رہ سکتے اس لیے مزاحمتی محاذ کا حملہ ممکن ہے اور ایران کا خود جنگ میں شریک ہونا بھی خارج از امکان نہیں۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے اسرائيل کی غزہ پر جارحیت جاری ہے جس دوران مسلسل بمباری میں 2800 سےزائد فلسطینی شہید ہوگئے ہیں، شہیدوں میں ایک ہزار سے زائد بچے اور 400 سے زائد خواتین بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع نے اسرائیل فلسطین جنگ طویل ہونے کی دھمکی دی ہے۔
تل ابیب میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے ملاقات میں اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ امریکا ہمارا عظیم اتحادی ہے، امریکی اعلیٰ حکام روز اسرائیل آ رہے ہیں۔
ایکس پر جاری بیان میں جوبائیڈن نے کہا کہ حماس کے دہشتگرد حملےکے خلاف اظہاریکجہتی کے لیے اسرائیل جاؤں گا اور اسرائیل کے دورےکے بعد اردن کا سفر کروں گا جو سنگین انسانی ضروریات سے نمٹنے اور رہنماؤں سے ملاقاتوں کے لیے ہوگا۔
امریکی صدر نے کہاکہ حماس فلسطینیوں کےحق خود ارادیت کے لیےکھڑی نہیں ہوئی، کچھ بنیادی اقدار ہیں جو ہمیں امریکیوں کے طور پر اکٹھا کرنا چاہئیں، ان بنیادی اقدار میں نفرت، نسل پرستی، تعصب اور تشددکےخلاف کھڑاہونا ہے۔
جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ نفرت کی کارروائیاں ہماری بنیادی اقدار کے خلاف کھڑی ہیں اور امریکا میں نفرت انگیزی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔