حیدرآباد (ویب ڈیسک): سندھ ترقی پسند پارٹی (ایس ٹی پی) کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی اور سندھ یونائیٹڈ پارٹی (ایس یو پی) کے صدر سید زین شاہ کی مگسی ہاؤس میں ملاقات ہوئی جس میں سندھ اور ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔ملاقات میں سندھ کے اہم قومی معاملات پر بات چیت کی گئی، جس میں سندھ میں بڑھتی ہوئی بدامنی، سندھ کی زمینوں پر قبضہ، کارسر اور کارونجھر کی کٹائی، اور ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اس موقع پر ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ سندھ کے اندر ایک سازش کے تحت سندھی قوم کو اقلیت میں تبدیل کرنے اور ان کے پیروں تلے زمین نکالنے کے لیے مردم شماری کے جھوٹے اعداد و شمار دیے گئے ہیں، جنہیں ہم مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف پروجیکٹس اور پروگراموں کے نام پر سندھ کی زمین پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ اصل زمین کے مالکوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ سندھ میں پانی کی قلت شدت اختیار کر گئی ہے اور دوسری طرف دریائے سندھ کے پانی پر قبضہ کرنے کے لیے مختلف نہریں بنانے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ بدامنی کے سبب سندھ کے عوام کی جان، مال اور عزت محفوظ نہیں ہے، پوری سندھ میں لاقانونیت کا راج ہے۔ ان تمام برائیوں اور مسائل کی جڑ پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جو مسلسل اقتدار میں رہ کر سندھ کی زمینوں اور وسائل کو فروخت کر رہی ہے۔
ڈاکٹر قادر مگسی نے مزید کہا کہ جب تک سندھی قوم متحد ہو کر وفاقی پارٹیوں سے اپنی جان آزاد نہیں کراتی، تب تک سندھ پر یہ مصیبتیں ختم نہیں ہوں گی۔ سندھ کے عوام کسی بھی صورت میں سندھ دشمن منصوبوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ تمام سندھ دوست جماعتوں کے درمیان رابطے اور ملاقاتیں ایک مثبت عمل ہیں جو جاری رہنے چاہئیں۔
اس موقع پر سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر سید زین شاہ نے ڈاکٹر قادر مگسی کو سندھ یونائیٹڈ پارٹی کی جانب سے 31 جولائی کو کراچی میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کی دعوت دی۔ ڈاکٹر قادر مگسی نے اس عمل کو بر وقت قرار دیتے ہوئے ایس ٹی پی کی جانب سے شرکت کی یقین دہانی کرائی۔ ملاقات کے وقت ایس یو پی کے رہنما روشن برڑو، انعام بھٹی، ایس ٹی پی کے رہنما حیدر شاہانی، ڈاکٹر سومار منگریو، قادر چنا، ہوت خان گاڈہی، اور اعجاز سندھی موجود تھے۔