کراچی/ حیدرآباد (ویب ڈیسک): دریائے سندھ پر بنائی جانے والی نہروں اور کارپوریٹ فارمنگ کے خلاف سندھ سراپا ئے احتجاج. اسلام آباد کے ساتھ ساتھ سندھ بھر میں سخت احتجاج ریکارڈ کروایا گیا . اسلام آباد پریس کلب پر ہزاروں سندھیوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ14 مارچ دریائے سندھ سےمحبت کا دن ہے۔انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ واضح اعلان کر دیا ہے کہ دریائے سندھ پر کوئی بھی نہر کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔
کراچی میں ہائی کورٹ کراچی سے پریس کلب تک طلباء، وکلاء، ڈاکٹروں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے احتجاجی ریلی اور مظاہرہ کیا ۔
جبکہ حیدرآباد میں بھی دریاؤں کے عالمی دن کے موقع پر سندھیانی تحریک، عوامی تحریک اور وکلاکی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی ، جوکہ مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے جامشورو میں کوٹڑی بیراج پر پہنچی .
دوسری جانب حیدرآباد میں سندھ ترقی پسند پارٹی کے وائس چیئرمین حیدر شاہانی، قادر چنا، ڈاکٹر احمد نوناری،حيدر ملاح ،ہوت خان گوتم چنا، خدا بخش درس ڈاکٹر مظہر میمن، جان محمد جو نیجو اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں سیکڑوں کارکنوں نے ترقی پسند ہاؤس، قاسم آباد سے ایک ریلی نکالی، جو جامشورو میں المنظر کے مقام پر دریائے سندھ پہنچی، جہاں پھول نچھاور کرکے دریا کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ ہزاروں سال کی تہذیب و تمدن کا حامل ہے، اور اس کے اصل وارث صرف سندھ کے عوام ہیں۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ سندھ سے اس کا دریا چھینے۔ سندھ کے لوگ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آخری سانس تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب، سینئر قوم پرست رہنما غلام شبیر تھیبو نے سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی سے ملاقات کی اور ایس ٹی پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر پارٹی چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ دریائے سندھ سندھ کی بقا کا واحد ذریعہ ہے، اور اس کو ختم کرنے کے لیے سازشیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب سسٹم میں اضافی پانی موجود نہیں تو پھر نہریں بنانے کا مطلب صرف سندھ کے پانی پر ڈاکہ ڈالنا ہے۔ سندھ کے ساتھ ہمیشہ پانی کے مسئلے پر دھوکہ کیا گیا ہے۔ 1991 میں ایک معاہدہ کیا گیا تھا، لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ اس معاہدے کے مطابق دریائے سندھ کے ڈاؤن اسٹریم میں کم از کم 10 ملین ایکڑ فٹ پانی چھوڑا جانا چاہیے، لیکن سندھ کو وہ پانی نہیں مل رہا، جس کے نتیجے میں پورا انڈس ڈیلٹا تباہ ہو چکا ہے اور سمندر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ پنجاب ہمیشہ سندھ کے ساتھ دھوکہ کرتا رہا ہے اور پانی پر قبضہ جمانے کی کوشش میں رہا ہے۔ جب جہلم-چشمہ لنک کینال تعمیر کی جا رہی تھی، تو کہا گیا تھا کہ اسے صرف اضافی پانی کی موجودگی میں کھولا جائے گا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سندھ میں پانی ہو یا نہ ہو، یہ کینال پورے سال پانی لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارسا ایکٹ میں کی جانے والی غیر قانونی اور غیر آئینی ترمیم کے پیچھے بھی حکمرانوں کے ناپاک ارادے شامل ہیں، اور سندھ اس ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی جانب سے ایک قرارداد پاس کرانے سے وہ اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ سندھ کے عوام نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دے کر اقتدار میں پہنچایا ہے، لہٰذا ان پر فرض ہے کہ وہ دریائے سندھ پر بننے والی نہروں، ارسا ایکٹ میں غیر آئینی ترمیم اور گرین پاکستان کے نام پر سندھ کی زمینوں پر قبضے کے منصوبوں کو مکمل طور پر ختم کرائے۔
ڈاکٹر قادر مگسی نے مزید کہا کہ گزشتہ پانچ مہینوں سے ہم سندھ کے شہر شہر، گاؤں گاؤں جا کر عوام کو بیدار کر رہے ہیں، اور اب سندھ جاگ چکا ہے۔ حکمرانوں کی یہ غلط فہمی ہے کہ وہ اپنی چالاکیوں سے سندھ میں اٹھنے والی آواز کو دبا سکیں گے۔ سندھ کا احتجاج سندھ دشمن منصوبوں کے خاتمے تک جاری رہے گا.
اسی طرح سجاول میں بھی سندھ ترقی پسند پارٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں مظاہرین کا کہنا تھا کہ گرین انیشئیٹو پاکستان پروگرام کے تحت سندھ کی زمینوں کی بندربانٹ اور دریائے سندھ پرغیر قانونی کینالوں کی تعمیر کو مسترد کرتے ہیں .
ٹھٹہ میں بی سندھ ترقی پسند پارٹی کی قیادت میں دولہہ دریا خان پل پر دریائے سندھ پر پھول نچھاور کیے گئے اور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا .
جبکہ مٹیاری میں معروف قوم پرست رہنما اور قانوندان ایاز لطیف پلیجو کی قیادت میں قومی عوامی تحریک اور دیگر جماعتوں کی جانب سے ایک شاندار ریلی اور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا .