اسلام آباد (ویب ڈیسک): صحافی اسد علی طور کو امریکہ جانے سے روک کر جہاز سے آف لوڈ کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں اسد طور نے بتایا کہ میں اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے امریکہ جا رہا تھا جہاں مجھے امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے واشنگٹن میں منعقدہ 12 روزہ پروگرام میں شرکت کرنا تھی لیکن امیگریشن حکام نے مجھے سفر کرنے سے روک دیا اور بتایا کہ میرا نام پی این آئی ایل میں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ میں نے بار بار پی این آئی ایل میں اپنا نام شامل کرنے کی وجہ پوچھی لیکن حکام کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، صحافت اور طاقت کے سامنے سچ بولنا پاکستان میں جرم بنا دیا گیا ہے، ہاں میں نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے اور یہ جرم دہراتا رہوں گا، صحافی کو اپنے پیشہ ورانہ امور سے روکنا اس “ہائبرڈ” رجیم کا ایک اور کارنامہ ہے، جس کے تحت پاکستان عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں 152 سے 158 ویں نمبر پر آ چکا ہے۔
اس معاملے پر سینئر سیاستدان مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بھی ایک پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ اسد طور سے ملاقات کی تصویر کے ساتھ لکھا کہ ’ماضی کے جھروکوں سے جب جمہوریت کی سر بلندی اور صحافت کی آزادی کے لیے شب و روز ایک کیا جا رہا تھا، شہباز شریف اور مریم نواز کو اطلاع ہو کہ آپ کے قُرب میں بیٹھے صحافی اسد طور صاحب پر سفری پابندیاں عائد کرکے انہیں غیر قانونی طور پر جہاز سے آف آف لوڈ کر دیا گیا ہے۔