اسلام آباد (ویب ڈیسک): پاکستان واٹر پارٹنرشپ (PWP) نے گلوبل چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر (GCISC) کے اشتراک سے پانی سے متعلقہ ماحولیاتی نظام (Freshwater Ecosystems) کے تحفظ اور بحالی کے لیے ایس ڈی جی 6.6.1 کے تحت دوسرا قومی اسٹیک ہولڈر مشاورتی ورکشاپ اسلام آباد میں منعقد کیا۔ ورکشاپ میں سرکاری اداروں، ماہرین، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی اور پاکستان کے آبی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ منصوبہ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی معاونت سے گلوبل واٹر پارٹنرشپ (GWP) کے ذریعے پاکستان میں نافذ کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد پائیدار ترقی کے ہدف SDG 6.6 کے حصول کے لیے قومی پالیسیوں، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور ڈیٹا پر مبنی فیصلوں کو مضبوط بنانا ہے۔
اس موقع پر پاکستان واٹر پارٹنرشپ کے کنٹری ڈائریکٹر محمد اویس نے کہا کہ اس ورکشاپ نے مختلف اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا جہاں پاکستان کے فریش واٹر ایکوسسٹمز کے تحفظ کے لیے عملی تجاویز اور مشترکہ حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، جو آئندہ قومی عملدرآمد کے روڈ میپ کی تیاری میں مددگار ثابت ہوگا۔
آبی ماہر اور سابق چیئرمین فیڈرل فلڈ کمیشن احمد کمال نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پانی کے وسائل کے پائیدار انتظام کے لیے انٹیگریٹڈ واٹر ریسورسز مینجمنٹ اور مؤثر ڈیٹا سسٹمز انتہائی اہم ہیں، اور اس طرح کی مشاورتی سرگرمیاں پالیسی سازی کے عمل کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
ورکشاپ کا افتتاح کرتے ہوئے گلوبل چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عارف گوہر نے کہا کہ پاکستان پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول اور موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں آبی وسائل کے مؤثر انتظام کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کثیر فریقی مشاورت کے ذریعے قومی سطح پر مؤثر حکمت عملیوں کی تیاری ممکن ہو سکتی ہے جو آبی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کو یقینی بنائیں گی۔
ورکشاپ کے دوران پہلے مشاورتی اجلاس کے نتائج پیش کیے گئے جبکہ شرکاء نے فریش واٹر ایکوسسٹمز کے تحفظ اور بحالی کے لیے ممکنہ حکمت عملیوں، ادارہ جاتی تعاون اور پالیسی اصلاحات پر تفصیلی گفتگو کی۔ شرکاء کی تجاویز کی بنیاد پر ایک کنٹری امپلیمنٹیشن روڈ میپ تیار کیا جائے گا جسے بعد ازاں اعلیٰ سطحی اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ورکشاپ کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کے آبی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مضبوط تعاون ناگزیر ہے