کراچی (ویب ڈیسک): پاکستان کے صوبہ سندھ میں مذہب کی مبینہ جبری تبدیلی اور اقلیتی برادری کی خواتین و کم عمر لڑکیوں کے اغوا اور ان کے استحصال پر بنائی گئی دستاویزی فلم نے عالمی ایوارڈ جیت لیا۔ فلم ساز جواد شریف کی بنائی گئی دستاویزی فلم ’دی لوزنگ سائیڈ‘ نے فرانس میں ہونے والے معروف ’کانز ورلڈ فلم فیسٹیول‘ میں ایوارڈ جیتا۔
اخباری رپورٹ کے مطابق پاکستانی فلم ساز کی فلم کو فرانسیسی فلم فیسٹیول میں ’ہیومن رائٹس‘ کی کیٹیگری میں منتخب کیا گیا تھا اور اسے نومبر 2022 کی ’ہیومن رائٹس کیٹیگری‘ کی فلم قرار دیا گیا۔ اسی حوالے سے فلم ساز جواد شریف نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں بھی فلم کے ایوارڈ جیتنے سے متعلق معلومات شیئر کی اور بتایا کہ انہیں سال 2022 کے آخری دن معلوم ہوا کہ ان کی فلم نے ایوارڈ جیت لیا۔ انہوں نے پوسٹ میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوارڈ سے زیادہ اس بات کی خوشی ہے کہ عالمی سطح پر ان کا اور ان کی ٹیم کا اعتراف کیا گیا۔
ان کی جانب سے بنائی گئی فلم ’دی لوزنگ سائیڈ‘ میں سندھ میں مبینہ اغوا کے بعد ان کا مذہب تبدیل کرنے والی کم عمر لڑکیوں اور ان کے ورثا کو دکھایا گیا ہے جو اس سنگین مسئلے پر بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
دستاویزی فلم میں اقلیتی برادری سے متعلق رکھنے والے سماجی رہنماؤں سمیت سندھ میں انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی شخصیات کو بھی دکھایا گیا ہے جو صوبے میں مذہب کی جبری تبدیلی کے خلاف بولتے دکھائی دیتے ہیں۔
دستاویزی فلم کے جاری کیے گئے مختصر ٹریلر میں ان حقیقی کم عمر لڑکیوں کو بھی دکھایا گیا ہے جنہیں اغوا کے بعد ان کا مبینہ طور پر مذہب تبدیل کرکے ان کی شادی مسلمان مرد حضرات سے کی گئی تھی۔
ٹریلر میں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے ایک عمر رسیدہ شخص بولتے دکھائی دیتے ہیں کہ بااثر مسلمان اپنی عیاشیوں کے لیے کمزور اقلیتی برادری کی کم سن لڑکیاں اٹھاکر زبردستی ان کا مذہب تبدیل کرتے ہیں۔
فلم کے موضوع کے حوالے سے جواد شریف نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ صرف سال 2021 میں ہی سندھ سے 27 ہندو اور مسیحی لڑکیوں کو مبینہ طور پر اغوا کرکے ان کا جبری مذہب تبدیل کروایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ہیومن کمیشن رائٹس آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سال 2021 میں جن لڑکیوں کا مذہب جبری طور پر تبدیل کروایا گیا، ان میں 7 لڑکیاں نابالغ تھیں۔
’دی لوزنگ سائیڈ‘ نے ’کانز ورلڈ فیسٹیول‘ فلم سے قبل دوسرے عالمی ایوارڈ بھی جیت رکھے ہیں اور مذکورہ فلم کو دیگر ہیومن رائٹس کیٹیگری کی فلمیں نمائش کے لیے پیش کرنے والے فلم فیسٹیولز میں بھیجا جا چکا ہے۔
ابھی ’دی لوزنگ سائیڈ‘ کو پاکستان میں ریلیز نہیں کیا گیا، تاہم امکان ہے کہ اسے رواں سال کے وسط یا اختتام تک یوٹیوب پر ریلیز کردیا جائے گا۔