کراچی (ٹیکڈیسک): اگر آپ جی میل استعمال کرتے ہیں اور کافی عرصے سے اپنے اکاؤنٹ کا پاس ورڈ تبدیل نہیں کیا، تو بہتر ہے کہ اب ایسا کرلیں۔یہ مشورہ گوگل کی جانب سے صارفین کو دیا گیا ہے۔گوگل کی جانب سے جی میل صارفین کو اکاؤنٹس کے تحفظ کے لیے یہ مشورہ دیا گیا ہے۔یہ مشورہ اس وقت دیا گیا جب جی میل سسٹمز کی ڈیٹا ہیکنگ کی رپورٹس حالیہ ہفتوں میں سامنے آئی۔
گوگل کی جانب سے جولائی کے آخر اور پھر 8 اگست کو ڈھائی ارب صارفین کو نوٹیفکیشنز بھیج کر خبردار کیا گیا کہ ہیکرز کی جانب سے سرگرمیوں کو بڑھا کر لوگوں کی لاگ ان تفصیلات کے حصول کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ایک حالیہ سکیورٹی ایڈوائزری میں گوگل نے بتایا کہ ہیک یا چوری ہونے والے پاس ورڈز کی تعداد مجموعی اکاؤنٹس کے 37 فیصد کے برابر ہے۔
گوگل نے ایک گروپ شائنی ہنٹرز کے بارے میں بتایا جس نے ڈیٹا لیک سائٹ تیار کی ہے تاکہ صارفین سے پیسے حاصل کرسکے۔
کمپنی کے مطابق اس مسئلے کی روک تھام کا آغاز سب سے بنیادی کام سے کرنا چاہیے اور وہ ہے کہ ابھی اپنا پاس ورڈ تبدیل کر دیں اور ہر چند ماہ میں اسے تبدیل کرنا عادت بنائیں۔
گوگل کے مطابق زیادہ بہتر یہ ہے کہ پاس ورڈز کی جگہ پاس کیز لاگ ان طریقہ کار کو اپنایا جائے جس میں بائیو میٹرک ڈیٹا جیسے فنگر پرنٹ یا چہرے سے اکاؤنٹ تک رسائی دی جاتی ہے، ہیکرز کے لیے ایسے اکاؤنٹس پر قبضہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
پاس کیز سے ہٹ کر گوگل نے یہ مشورہ بھی دیا کہ ایس ایم ایس پر مبنی ٹو فیکٹر authentication (ٹو ایف اے) کا استعمال ختم کرکے کسی authenticator ایپ کا استعمال کریں۔