اسلام آباد (ویب ڈیسک): سپریم کورٹ میں قومی احتساب بیورو (نیب) قانون میں ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے دیے گئے ریمارکس پر سینیٹ اراکین کے شدید اعتراض پر اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہٰی نے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کو خط لکھ دیا ہے۔
اٹارنی جنرل نے اپنے خط میں کہا کہ سوشل میڈیا پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ریمارکس سے متعلق غلط رپورٹنگ کی گئی ہے جس کے ردعمل میں سینیٹرز نے تنقید کی۔
انہوں نے لکھا کہ ’چیف جسٹس نے یہ نہیں کہا تھا کہ صرف محمد خان جونیجو ہی ایماندار وزیراعظم تھے، وزیراعظم کی دیانتداری سے متعلق چیف جسٹس کے ریمارکس کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے‘۔
اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہٰی نے مزید لکھا کہ نیب ترامیم کیس کی سماعت میں، میں خود موجود تھا اور اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ دوران سماعت ایسی کوئی بات نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس نے یہ ریمارکس 1988 میں سپریم کورٹ کی جانب سے قومی اسمبلی کی بحالی کا حکم نا دینے کے تناظر میں دیے تھے اور سابق چیف جسٹس نسیم حسن کے مؤقف کو دہرایا تھا جنہوں نے نواز شریف کیس میں اسمبلی بحال نہ کرنے پر پچھتاوے کا اظہار کیا تھا۔
اٹارنی جنرل نے لکھا کہ چیف جسٹس پاکستان نے کہا تھا کہ محمد خان جونیجو ایک اچھے اور آزاد وزیر اعظم تھے جن کی حکومت 58 (2) بی کے تحت ہٹائی گئی۔
انہوں نے اعظم نذیر تارڑ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ خط اس توقع کے ساتھ آپ کو لکھا جارہا ہے کہ آپ اس حوالے سے ریکارڈ درست کرنے کے لیے اپنے ساتھی اراکین پارلیمنٹ کے سامنے حقائق پیش کریں گے۔
پسِ منظر
خیال رہے کہ 9 فروری کو سپریم کورٹ میں قومی احتساب بیورو (نیب) قوانین میں ترمیم کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ ملک میں تمام مسائل کا حل عوام کے فیصلے سے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ موجودہ پارلیمنٹ کو دانستہ طور پر نامکمل رکھا گیا ہے، موجودہ پارلیمنٹ سے ہونے والی قانون سازی بھی متنازع ہو رہی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا تھا کہ عدالت اس سے پہلے بھی ایک بار اپنے فیصلے پر افسوس کا اظہار کر چکی ہے، پاکستان کی تاریخ میں ایک ہی وزیر اعظم آئے تھے جو بہت دیانت دار سمجھے جاتے تھے، ایک دیانت دار وزیراعظم کی حکومت 58 (ٹو) (بی) کے تحت ختم کی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 58 (ٹو) (بی) کالا قانون تھا، عدالت نے 1993 میں قرار دیا تھا کہ حکومت غلط طریقے سے گئی لیکن اب انتخابات ہی کرائے جائیں۔
10 فروری کو سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز نے چیف جسٹس عمر عطابندیال کی جانب سے دیے گئے ریمارکس پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے یہ کیسے کہہ دیا کہ پارلیمنٹ متنازع ہوگئی ہے۔