کراچی-نواب شاہ (ویب ڈیسک): سندھ ترقی پسند پارٹی کے طرف سے ڈجیٹل مردم شماری خلاف آٹھویں دن و رات کراچی پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ پر ایس ٹی پی کے وائیس چیئرمین گلزار سومرو، حیدر شاہانی، ڈاکٹر سومار منگریو، قادر چنا، حیات تنیو اور دیگر کی قیادت میں سینکڑوں کارکنوں احتجاج جاری رہا۔احتجاجی کیمپ میں موجود رہنما اور کارکنان ڈجیٹل مردم شماری کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔ دوسری جانب سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے ڈیجیٹل مردم شماری کے خلاف عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں نواب شاہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نوابشاہ سے خطاب کیا اور شہر میں کارنر میٹنگز سے بھی خطاب کیا۔ مختلف مقامات پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسی کوئی وبائی یا ہنگامی صورتحال نہیں کہ دس سال بعد کی جانے والی مردم شماری پانچ سال کے اندر کرائی جا رہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہم موجودہ مردم شماری کے خلاف ہیں کیونکہ اس وقت سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک کروڑ 50 لاکھ بارش کے متاثرین دربدر ہیں 15 لاکھ مکانات ختم ہو گئے ہین ، دوسری طرف امن و امان کی صورتحال یہ ہے کہ گھوٹکی، کشمور اور کندھ کوٹ میں ڈاکوؤں کا راج ہے۔ اور نو گو ایریا بنے ہوئے ہیں ، تو وہاں مردم شماری کا عملہ کیسے پہنچے گا۔
عملے کو انتہائی سستی اور ناکارہ ٹیبلٹس دی گئی ہیں جو کہ ٹھیک سے کام بھی نہیں کرتیں، دوسری جانب انٹرنیٹ کی سہولت بھی ناکافی ہے، اس لیے ہمیں یقین ہے کہ اسلام آباد سے جھوٹ پر مبنی اعدادوشمار جاری کیے جائیں گے۔ ڈاکٹر قادر مگسی نے مزید کہا کہ سندھ میں غیر ملکی آبادکاری کو شمار کرنے اور شناختی کارڈ کی شرط ختم کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حکمرانوں کی نیتیں ٹھیک نہیں، اس لیے اس مردم شماری کو ملتوی کرکے عوام کا پیسہ بچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی مادر وطن کے ایک انچ اور حق حکمرانی سے دستبردار نہیں ہوں گے، اس کے لیے ہمیں بہت قربانیاں دینی پڑیں گی اور سندھی قوم اس کے لیے تیار ہے۔ پورا سندھ اس مردم شماری کو مسترد کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ کے خلاف سازشوں میں ملوث ہے، ماضی کی طرح جب سندھ سازشوں کے خلاف کھڑا ہوا تو پیپلز پارٹی نے بظاہر یو ٹرن لیا اور اندرونی طور پر سازشوں میں ملوث رہی۔ اس وقت بھی انہوں نے مردم شماری کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا ہے وہ صرف عوام کو دھوکہ دینے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ وہ سندھ کے عوام سے ووٹ حاصل کر سکیں۔ اگر پیپلز پارٹی سندھ کے عوام کی آواز بننا چاہتی ہے تو مردم شماری کو فوری طور پر ملتوی کرے یا پی ڈی ایم حکومت سے الگ ہو باقی یہ ڈرامہ بند کرے۔
انہوں نے کہا کہ ایس ٹی پی اس مردم شماری کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی جس میں سندھ کے ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کو اکٹھا ہونے کی اپیل کرتے ہیں.