تل ابیب (ویب ڈیسک): تل ابیب میں ہفتے کے روز ہزاروں افراد نے اسرائیلی حکومت کے غزہ میں جنگ کو مزید وسعت دینے کے منصوبے کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور غزہ میں موجود یرغمالیوں کی تصاویر بھی اٹھائے ہوئے تھے، جن کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔رپورٹس کے مطابق شرکا کی تعداد لاکھوں میں تھی، جب کہ یرغمالیوں کے لواحقین کے گروپ کا دعویٰ ہے کہ تقریباً ایک لاکھ افراد نے احتجاج میں شرکت کی۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے غزہ پر فوجی قبضے کی تجویز کی سکیورٹی کابینہ سے منظوری کے بعد اسرائیلی وزیر خزانہ نے حکومت گرانے کی دھمکی دیدی۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر خزانہ بذلیل اسموٹرچ نے غزہ میں جنگ کے نیتین یاہو کے منصوبوں پر حکومت گرانے کی دھمکی دی ہے۔
مظاہرین نے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ اگر غزہ پر حملے کے دوران یرغمالیوں کو نقصان پہنچا تو وہ ہر جگہ ان کا احتساب کریں گے۔
یہ احتجاج ایک دن بعد سامنے آیا جب اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ نے غزہ سٹی پر قبضے کے لیے بڑے فوجی آپریشن کی منظوری دی، جس پر مقامی اور بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید ہوئی۔
اسرائیلی وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر کہا کہ “ہم غزہ پر قبضہ نہیں کر رہے، ہم غزہ کو حماس سے آزاد کرا رہے ہیں”۔ تاہم فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اس منصوبے کو “نیا جرم” قرار دیتے ہوئے فوری روکنے کا مطالبہ کیا۔فلسطینی حکام کے مطابق غزہ میں حماس کے قبضے کے دوران 251 میں سے 49 یرغمالی اب بھی موجود ہیں، جن میں سے 27 کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے غزہ پر فوجی قبضے کی تجویز کی سکیورٹی کابینہ سے منظوری کے بعد اسرائیلی وزیر خزانہ نے حکومت گرانے کی دھمکی دیدی۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر خزانہ بذلیل اسموٹرچ نے غزہ میں جنگ کے نیتین یاہو کے منصوبوں پر حکومت گرانے کی دھمکی دی ہے۔
اسرائیلی کان پبلک براڈ کاسٹر کے مطابق اسرائیلی وزیر خزانہ کی حکومت گرانے اور نئے انتخابات کی دھمکی دی ہے، وزیر خزانہ بذلیل اسموٹرچ نے جمعرات کو سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں یہ دھمکی دی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر خزانہ کا کہنا تھا میرے نقطہ نظر سے ہم سب کچھ روک کر لوگوں کو فیصلے کا اختیار دے سکتے ہیں۔اسرائیلی وزیر خزانہ بذلیل اسموٹرچ کا کہنا تھا یقین نہیں ہے کہ وزیراعظم اسرائیلی فوج کو فیصلہ کن فتح کی طرف لے جا سکتے ہیں، ایسا لگتا ہے نیتن یاہو اسرائیلی فوج کو فیصلہ کن فتح کی طرف لے جانا ہی نہیں چاہتے۔