غزہ (ویب ڈیسک): اسرائیلی فوج نے غزہ امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ کردیا۔اسرائیلی بحریہ نے گلوبل صمود فلوٹیلا کی کئی کشتیوں پر دھاوا بول کر تحویل میں لے لیا اور جہازوں پر موجود کارکنوں کو اسرائیلی پورٹ منتقل کردیا گیا۔اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں معروف سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔وزارتِ خارجہ نے ویڈیو بھی جاری کردی۔اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ گریٹا تھنبرگ سمیت تمام کارکن محفوظ ہیں۔ حکام کے مطابق اسرائیل پہنچنے کے بعد تمام گرفتار کارکنوں کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔
فلوٹیلا کے منتظمین کے مطابق اسرائیلی اہلکار قافلے میں شامل ایک جہاز میں داخل ہوگئے ہیں اور تمام ارکان کو اسرائیلی فوجیوں نے حراست میں لے لیا ہے۔فلوٹیلا پر موجود افراد کے مطابق اسرائیلی فوج نے ’الما‘ اور ’سائرس‘ نامی کشتیوں کو گھیر لیا ہے۔
اس سے قبل گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے اپنے جہازوں پر ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔
اسرائیلی بحریہ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں اسرائیلی فوج کی جانب سے فلوٹیلا کو ریڈیو کے ذریعے خبردار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے فلوٹیلا کو کہا گہا ہے کہ اگر وہ غزہ کو امداد پہنچانا چاہتے ہیں تو اپنا رخ اشدود کی بندرگاہ کی جانب موڑلیں جہاں سے امداد کو غزہ پہنچادیا جائے گا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کی جانب سے بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج فلوٹیلا تک پہنچ گئی ہے اور فلوٹیلا کو راستہ تبدیل کرنے کا کہا جارہا ہے، اسرائیلی فوج نےخبردار کیا ہےکہ فلوٹیلا وار زون میں داخل ہو رہا ہے۔
فلوٹیلا کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے رکن تیاغو اویلا نے اپنے جہاز سے بھیجے گئے ایک آڈیو پیغام میں کہا کہ ’ہم اپنے مشن کے ایک فیصلہ کن مرحلے پر پہنچ رہے ہیں۔ اس وقت ہم ان (اسرائیل) کی فوجی ناکہ بندی کے قریب بڑھ رہے ہیں‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیلی جہازوں کی ایک بڑی تعداد یہاں موجود ہے، جو اسرائیلی وزارتِ خارجہ اور میڈیا کی اُن اطلاعات سے مطابقت رکھتی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ آج رات ہمارے اس مشن کو غیرقانونی طور پر روکا جائے گا، حالانکہ ہمارا مقصد محاصرہ توڑنا اور ایک انسانی راہداری قائم کرنا ہے‘۔
فلوٹیلا پر موجود عرب صحافی کے مطابق کم از کم 12 مشتبہ اسرائیلی جہاز ان سے تقریباً 4 بحری میل کے فاصلے پر ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ یہ جہاز کس رفتار سے بڑھ رہے ہیں یا صرف فلوٹیلا کو روکنے کے لیے رکاوٹ کے طور پر کھڑے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق اس سے قبل گلوبل صمود فلوٹیلانے اپنی ویب سائٹ پر بتایا ہے کہ بیڑہ اس وقت غزہ سے 118 بحری میل کے فاصلے پر ہے، جو اس مقام سے صرف8 میل دور ہے جہاں جون میں امدادی جہاز ’میڈلین‘ پر اسرائیلی فوج نے قبضہ کرلیا تھا۔
ترک خبر رساں ادارے سے فلوٹیلا کے ایک جہاز پر موجود کارکن زین العابدین اوزکان نے بتایا کہ رات بھر فلوٹیلا کے اوپر ڈرونز کی پروازیں جاری رہیں اور صبح تقریباً 5 بجے فلوٹیلا میں شامل ’الما‘ نامی مرکزی کشتی کے جی پی ایس اور انٹرنیٹ سسٹم پر سائبر حملہ کر کے اس سے رابطہ منقطع کر دیا گیا۔
’الما‘ پر موجود ترک کارکن متیہان ساری نے کہا کہ ’یہ اب تک کی سب سے بڑی ہراسانی تھی جس کا ہمیں سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ہمیں ڈرانے کی کوشش کی لیکن ہم خوفزدہ نہیں ہوئے اور انہیں بتایا کہ ہم خوفزدہ نہیں ہوں گے‘۔
متیہان ساری کے مطابق اسرائیلی بحری جہاز ’الما‘ سے صرف 5 سے 10 میٹر کے فاصلے تک آگئے تھے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ریاستوں کی مسلسل بے عملی نے، دنیا بھر کے کارکنوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ محاصرہ توڑنے کے لیے پرامن اقدامات کریں، ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ فلوٹیلا کو محفوظ راستے کی ضمانت دیں۔ انہیں لازماً دباؤ بڑھانا ہوگا تاکہ فلوٹیلا کا تحفظ کیا جا سکے، اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی کا خاتمہ ہو اور اس کا غیر قانونی محاصرہ ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے‘۔
خیال رہے کہ غزہ کی جانب جانے ولے اس فلوٹیلا پر سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی موجود ہیں۔