کراچی(ویب ڈیسک): پولیس اور کورنگی ڈپٹی کمشنرآفس کے عملہ نے بغیر اجازت کورنگی میں مائیکرو بائیالوجی کے مایہ ناز پروفیسر اور قائد اعظم محمد علی جناح کے شجرہ نویس پروفیسر آصف علی کے گھر میں داخل ہو کر خواتین اہلکاروں نے زبردستی اہل خانہ کی تلاشی لی اور انہیں ہراساں کیا۔ تفصیلات کے مطابق آج دوپہر کو پولیو ٹیم مائیکرو بائیالوجی کے مایہ ناز پروفیسر اور قائد اعظم محمد علی جناح کے شجرہ نویس پروفیسر آصف علی کے گھر پہنچی تو انہوں نے ٹیم کے ارکان کو بتایا کہ وہ اپنے پوتوں کو ڈبلیو ایچ او کی ہدایات اور عالمی تقاضوں کے مطابق پولیو کی ویکسینیشن مکمل کرا چکے ہیں۔
انہوں نے ٹیم کے ارکان کو یہ بھی بتایا کہ وہ مائیکرو بائیالوجی کے ماہر ہیں اور تمام عمر ان ہی بیماریوں کے بارے میں جامعات میں پڑھاتے رہے ہیں اور پولیو ویکسینیشن کی اپمیت سے متعلق مکمل آگاہی رکھتے ہیں جس کے مطابق پیدائش سے ایک سال تک کے بچوں کو تین ادوار دیا جانا نہایت ضروری ہے اور وبائی صورت میں ایک بوسٹر خوراک بھی دی جا سکتی ہے بصورت دیگر لائیو ویکسین کے بسا اوقت شدید مضر اثرات سامنے آتے ہیں اور اسی خوراک سے نارمل بچہ پولیو کا شکار ہو جاتا ہے۔ پولیو مہم خطرے کی زد میں رہنے والے نان ویکسینیٹڈ اور کم مدافعتی مصنوعی دودھ پر پلنے والے بچوں کے لئے ضروری ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے پولیو ویکسین ٹیم کو بتایا کہ میرے بچے مکمل طور پر EPI کے تحت ویکسین کے ذریعے امیون کروا چکے ہیں اور یہ کہ آئیسولیشن میں حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق پرورش پارہے ہیں۔ یوں بھی کوئی انجکشن یا دوا کسی انسان کو اس کی مرضی کے بغیر دیا جانا طبی اخلاقیات کے منافی ہے جبکہ ایسا کرنے سے موت یا مستقل اپاہج ہونے کا خطرہ بھی موجود ہو۔
انہوں نے کہا کہ میری سائنٹفک اور مستند گزارشات کے باوجود کورنگی ڈپٹی کمشنرآفس کے عملے اور پولیس اہلکاوں نے میری ایک نہیں سنی اور پیر کو بچوں کو پولیو کے قطرے نہ پلانے کی پاداش میں میری غیر موجودگی میں دوبارہ میرے گھر پہنچی اور خواتین اہلکاروں نے بغیر اجازت میرے گھر میں داخل ہو کر میرے اہل خانہ کی جامہ تلاشی لی جس کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس صورت حال پر مجھے انتہائی افسردگی کے ساتھ میڈیا اور عوام کو آگاہ کرنا پڑ رہا ہے کہ ساری زندگی قومی خدمات انجام دینے والے بزرگ پروفیسر اور اس کے اہل خانہ کے ساتھ پولیس اور انتظامیہ نے اس طرح کا سلوک روا رکھا کہ جیسے میرا تعلق کسی جرائم پیشہ گروہ کے ساتھ ہو۔
پروفیسر آصف علی نے چیف جسٹس پاکستان جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جناب جسٹس عرفان سعادت خان، نگران وزیر اعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر، کمشنر کراچی محمد ادریس راجپوت، ڈپٹی کمشنر کورنگی، آئی جی سندھ پولیس راجہ رفعت مختیار، کراچی پولیس چیف خادم حسین رند اور ایس ایس پی میرے گھر کی تلاشی لینے والے عملے کی اس کارروائی کا سختی سے نوٹس لیں تاکہ آئندہ پولیو ویکسینیشن کی آڑ میں کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور محب وطن پاکستانی کی پگڑی نہ اچھالی جا سکے۔