کراچی (ویب ڈیسک): ذرائع کے مطابق آغا عدنان، جو کہ پیپلز امن کمیٹی کے ترجمان کے طور پر جانے جاتے ہیں، پر سنگین نوعیت کے مالی و انتظامی بے ضابطگیوں اور اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آغا عدنان نے مبینہ طور پر ایک ہی وقت میں دو مختلف سرکاری ملازمتیں حاصل کیں اور دونوں اداروں سے تنخواہیں وصول کرتے رہے، جو کہ سرکاری قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی تصور کی جاتی ہے۔ اس مبینہ عمل سے سرکاری خزانے کو مالی نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔مزید الزامات کے مطابق سرکاری ریکارڈ اور بینکنگ لین دین سے متعلق بعض دستاویزات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تنخواہوں کی ادائیگی اور رقوم کی منتقلی کے حوالے سے غیر معمولی طریقہ کار اختیار کیا گیا، جس پر شفافیت کے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بطور انسپکٹر کالجز آغا عدنان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کا مبینہ طور پر غلط استعمال کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کے الحاق اور انتظامی معاملات میں کردار ادا کیا۔اے جی سندھ کی بک نمبر 01879 اور چیک نمبر 187876 بنام آغا عدنان نے اپنے حبیب بینک کے اکاؤنٹ میں تنخواہیں جمع کرواتا اور نکالتا رہا ہے
ان الزامات میں دو تعلیمی اداروں کے نام بھی سامنے آتے ہیں:
ایک ادارہ کائینیٹک کالج ناظم آباد، کٹی پہاڑی کے قریب بتایا جاتا ہے، جس کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ محدود سہولیات پر مشتمل ہے اور اس کے وجود اور آپریشنل ڈھانچے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
دوسرا ادارہ کراچی انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ اینڈ سائنس (KIMS) ہے، جس کے حوالے سے الزام ہے کہ اسے مبینہ طور پر قواعد و ضوابط کے برعکس الحاق دیا گیا اور اس کی قانونی حیثیت اور فزیکل وجود پر بھی مختلف سوالات موجود ہیں۔
مزید الزامات کے مطابق اس مبینہ عمل میں مالی فوائد اور رشوت کے تبادلے کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی کسی آزاد ادارے یا عدالتی فورم سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آغا عدنان مختلف اہم کمیٹیوں جہاں دوسرے ملازمین کیخلاف ڈسیپلن کمیٹی بھی شامل ہے اس کمیٹی میں بیک وقت دو سرکاری نوکریاں کرنے والے آغا عدنان کو ممبر کرنا ڈسیپلن کمیٹی پر سوالیہ نشان ہے ؟؟ اور تعلیمی انتظامی معاملات میں مسلسل شامل رہے، جس پر مفادات کے ٹکراؤ (conflict of interest) کے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں ۔
آغا عدنان تین سال تک لیاری یونیورسٹی سے غیر حاضر رہے مگر تنخواہ اور باقی مراعات بھی اٹھاتے رہے اور جب اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر امجد سراج میمن کے آفس کی جانب سے پوچھا گیا تو آغا عدنان نے کہا کہ میں الیکشن کمیشن میں ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہوں مگر حقیقت میں ایسا کچھ نہیں تھا۔۔
تاہم واضح رہے کہ یہ بیک وقت دو نوکری کرنے کے الزامات سینڈیکیٹ میں اٹھائے گئے جسے اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر اختر بلوچ نے ویٹو کرتے ہوئے آغا عدنان کو بچانے کی کوشش کی اور اسے PA ٹو رجسٹرار کے عہدے پر غیر قانونی فائز کردیا جبکہ اکسی بھی آزاد، عدالتی یا سرکاری تحقیق سے ان کی تصدیق ہونا باقی تھی ۔
قانونی ماہرین کے مطابق ایسے معاملات میں شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور اگر کوئی خلاف ورزی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے.