لاڑکانہ (ویب ڈیسک): کچھ روز قبل نصیر آباد شہر میں دن دہاڑے قتل کیے گئے قوم پرست رہنما اور نصیر آباد اسکول کے استاد ہدایت لوہار کو موٹر سائیکل پر سوار ملزموں نے فائرنگ کرکے شہید کردیا . جس کی ایف آئی آر تک پولیس نے لینے سے انکار کردیا تھا مگر نصیر آباد بائی پاس پر مسلسل دھرنے کے بعد سندھ بھر میں احتجاج اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کی ہدایات کے بعد نصیر آباد تھانے پر ورثابیٹیوں کی رائے کے مطابق ایف آئی درج کرلی گئی ، لیکن تاحال ملزمان کی عدم گرفتاری کے باعث مقتول کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے سندھ کے مختلف شہروں میںاحتجاج کا سلسلہ جاری ہے . اسی سلسلے میں آج لاڑکانہ شہر میںاحتجاجی ریلی نکالی گئی.
پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے قاتلوں کو گرفتار کرنے کے بجائے آج لاڑکانہ میںپرامن احتجاجی ریلی کا راستہ بند کرکے ہزاروں کی تعداد میں ریلی میںشریک مرد وخواتین پر تشدد اور فائرنگ کی گئی جس میںشہید استاد ہدایت لوہار کی انصاف مانگتی بیٹیوں سورٹھ لوہار، سسئی لوہار کے ساتھ ساتھ فوزیہ سینگار نوناری اور سندھ کے معروف ادیب تاج جویو اور اُس کی تمام فیملی جن میںمحترمہ سوہنی جویو اور ان کے شوہر سارنگ جویو اورعدالتوں میں انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنیوالے حیدرآباد بار کے نامور وکیل محب آزادپر لاڑکانہ پولیس نے بہیمانہ تشدد کیا اور گرفتار کر لیا.
ابتدائی اطلاعات کے مطابق فوزیہ سینگار نوناری نامعلوم مقام پر منتقل کردی گئیں جبکہ سورٹھ لوہار اور سسئی لوہار سچل تھانے میں قید ہیں۔بعد ازاں سسئی لوہار ، سورٹھ لوہار اور فوزیہ سینگار نوناری کو سچل تھانے سے زبردستی اٹھا کر لاپتہ کر دیا گیا، سورٹھ لوہار اور دیگر دوستوں کو سچل تھانے میں بند کر کے ملاقات پر پابندی لگا دی گئی، تھانے کو تالہ لگا دیا گیا۔
آخری اطلاعات تک شہید استاد ہدایت لوہار کی بیٹی سسئی لوہار، سورٹھ لوہار اور فوزیہ سینگار نوناری کو تا حال لاپتہ ہیں۔
دوسری جانب لاڑکانہ میں پرامن احتجاجی ریلی پر سرکاری دہشت گردی اور خواتین کی بے عزتی کے خلاف سندھ یونیورسٹی کے طلبہ کی جانب سے یونیورسٹی کے سندھالوجی گیٹ سے انڈس ہائی وے کو بلاک کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے .
جبکہ لاڑکانہ میں ریاستی جارحیت اور تشدد کے خلاف چھتری چوک خیرپور میں بھی احتجاجی کیمپ لگایا گیا۔