سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے چیئرمین سید جلال محمود شاہ، سید زین شاہ، ڈاکٹر سید ضیا شاہ، سید بدرالزمان شاہ جونیئر جی ایم سید روشن برڑو اور دیگر نے سائیں جی ایم سید کی 119ویں سالگرہ کا کیک کاٹ کر تقریب کا آغاز کیا.
اس موقع پر ایس یو پی کے مرکزی چیئرمین سید جلال محمود شاہ نے کہا کہ وہ بیماری کی وجہ سے زیادہ بات نہیں کر سکتے تاہم جی ڈی اے اتحاد کا حصہ بن کر جدوجہد کی جائے،انہوں نےکہا کہ آنے والے تمام کارکنوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
ایس یو پی کے مرکزی صدر سید زین شاہ نے کہا کہ جلسہ گاہ کے قریب دریائے سندھ بہتا ہے۔ جہاں سن میں رینجرز اور پولیس تعینات ہیں۔ پُر امن کارکنوں پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کرکے کارکنوں پربراہ راست فائرنگ کی گئی جس سے کئی کارکن زخمی ہوگئے۔
Strongly condemn the actions of security forces in sann.
سن ۾ ادارن طرفان قومي ڪارڪنن تي حملي جي مذمت ڪجي ٿي#HBDSainGMSyed
— Sayed Zain Shah (@Sayed_ZainShah) January 17, 2023
انہوں نے کارکنوں کی گرفتاری اور زخمی ہونے اور اے ٹی سی مقدمات بنانے کے خلاف آج سندھ بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 2 روز قبل بلدیاتی انتخابات میں ریکارڈ دھاندلی ہوئی ، جس میں الیکشن حکام کے ایماندار افسر نے 200 خالی بیلٹ پیپرز نکالے۔
روزانہ جرائم میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جعلی جمہوریت کو مسترد کرتے ہیں، مغربی سرحد سے افغان باشندوں کو بغیر پاسپورٹ کے آنے دیاجارہا ہے جبکہ کھوکھرا پاربارڈر پر کریک ڈاؤن کیا گیاہے۔
انہوں نے کہا کہ پختون اگر افغانوں سے محبت کرتے ہیں تو سندھی گجرات کے لوگوں سے محبت کرتے ہیں،یہاں تقریر و تحریر پر پابندی ہے، معیشت کی تباہی سے ملک دیوالیہ ہو چکا ہے، خارجہ پالیسی ایک کٹھ پتلی وزیر کے ہاتھ میں ہے جس نے پڑوسی ممالک سے تعلقات خراب کیے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ نے 75 سال سے سبق نہیں سیکھا، دونمبر الیکشن کے ذریعے قیادت سامنےلائی جاتی ہےاس لیے ملک دیوالیہ ہو اہے۔
ساحلی پٹی کا 270 کلومیٹر تک کا علاقہ وفاقی حکومت کے حوالے کر دیا گیا ہے۔سندھ کو اختیارات سے محروم کر کے زمین وفاق کے حوالے کر دی گئی ہے۔
الیکشن میں الیکٹرانک مشینوں اور بائیو میٹرک سسٹم کی مخالفت کی جاتی ہے۔ 2023 الیکشن کا سال ہے جس میں جی ڈی اے کے پلیٹ فارم سے حصہ لیکر زرداری شیطان کو بھگا دیا جائے گا، تمام قوم پرست جماعتیں اتحاد میں شامل ہوجائیں۔
جی ڈی اے کے رہنما صفدر عباسی نے کہا کہ سیاست میں اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن ہم وفاق پرست ہوں یا قوم پرست، ہم سب وطن سے محبت کے نقطے پر متحد ہیں۔ ہر سندھی سندھ سے غیر مشروط محبت کرتا ہے۔سندھ کوئی خطہ نہیں بلکہ موجودہ سندھ وہ ہے جہاں سے دریائے سندھ گزرتا ہےحتیٰ کہ پورا پاکستان بھی سندھ ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ کے حقوق کے لیے ہم سب متحد ہوکر مضبوط جدوجہد کریں گے۔سائیں جی ایم سید نے پرامن سیاست کی۔انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے ایک بہت بڑا اتحاد ہے جس سے ایس یو پی نےاتحاد کرکےبڑی قوت بخشی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مراد علی شاہ نے سندھ کے ہر شہر کو کھنڈر میں تبدیل کر دیاہے، زرداری مافیا حکومت کے بغیر گھروں میں بھی سیاست نہیں کر سکے گا۔
عوامی جمہوری پارٹی کے سید لال شاہ نے کہا کہ تقسیم کرو اور حکومت کرو پرانا ہتھکنڈہ ہے، سید نے قوم کو بیدار کرنے کا سبق دیا۔انہوں نے کہا کہ تقسیم کے بعد ہندوؤں کوزبردستی بے دخل کرکے یہاں پر آوارہ لوگوں کو بسایاگیا جنہوں نے دہشت گرد تنظیمیں تشکیل دیں۔ون یونٹکے خلاف سید اور پلیجو نے زبردست تحریک چلائی۔
نیشنل پارٹی کے ایوب قریشی نے کہا کہ سید نے ملک کی آزادی کی جنگ لڑی اور قرارداد پاکستان دی جس میں قوموں کے حقوق اور مالکانہ اختیارات کی بات کی گئی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی قومی ملک کا مقصد اقوام کو بااختیار بنانا ہے، بنگلہ دیش جبر و تشدد کی وجہ سے الگ ہوا، حکمران ماضی سے سبق سیکھیں، مظلوم قومیں متحد ہو کر آواز بلند کریں۔
قومی عوامی تحریک کے رہنما مظہر راہوجو نے کہا کہ سندھ میں مکتبہ فکر میں جی ایم سید پلیجو اور بھٹو ازم نظریات کے نام ہیں، ان کا کہنا تھا کہ جی ایم سید اور پلیجو نے وسائل لوٹنے والوں ،استحصالی قوتوں اورغیر ملکی آبادکاری کے قوانین کی تشکیل کو چیلنج کیا۔ملکی قرارداد سائیں جی ایم سیدلائے بھٹو کی فکر وسائل کی لوٹ مار اور اقتدار کے کے حصول کےبارے میں ہے۔
ایس یو پی کے نائب صدر امیر آزاد پنہور نے کہا کہ سید کا یوم پیدائش جشن بھی ہے اور احتساب کا دن بھی ہے، سید کا تصور سندھ اور سندھ کا تصور ہمیں سید کی سچائی کی یاد دلاتا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ 144 قلم سید کی سچائی کو کبھی نہیں روک سکتا۔ حکمرانوں نے سندھ کو جان بوجھ کر ڈبویا اور اب بیرونی امداد لے کرہڑپ رہے ہیں۔
چوہدری عارف نیاز آرائیں نے کہا کہ قوم پرستوں سے حکمرانوں کو کیا خطرہ ہے کہ بڑے پیمانے پر رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹٰ نے لوگوں ہاتھ ٹانگنےپر مجبور کیاہے اور پھر ان کی تذلیل کی جا رہی ہے،سید زین شاہ سیلاب کے دوران عوام کاسہارا بنے ، عوام جی ایم سید کی کتابیں پڑھیں.
اجلاس میں جی ایم سید میموریل کمیٹی نے سہیل میمن کو جی ایم سید ایوارڈ 2022 سے نوازا۔ آخر میں اجلاس میں قرار دادیں منظور کرتے ہوئے مطالبات کیے گئے کہ :
1. سندھ میں آٹے کا بحران ختم کرتے ہوئے آٹے کی قیمت 60 روپے فی کلو مقرر کی جائے، گندم اور گندم کے بحران اور کرپشن میں ملوث سرکاری افسران اور سندھ حکومت میں شامل وزراء اور بااثر افراد کو گرفتار کیا جائے۔
2. قومی اسمبلی کے اسپیکرز کی جانب سے نئے صوبوں کے حوالے سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کو ختم کیا جائے۔
3. سندھ اسمبلی سے منظور کی گئی قرارداد کے مطابق آئین کے آرٹیکل 144 اور 147 کو منسوخ کرکے صوبوں کے معدنی وسائل وفاق کو منتقل کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
4. جامشورو اور گڈو تھرمل پاور اسٹیشن بند کرکے مقامی مزدور وں کو بے روزگار کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔
5. ملک میں ڈیجیٹل مردم شماری کا ڈھونگ بند کیا جائے اور مردم شماری آئین کے مطابق مقررہ وقت کے مطابق کروائی جائے۔
6. حکومت سندھ سے سیلاب سے متاثر ہونے والے لاکھوں بے گھر افراد کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں.
7. 15 جنوری کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں سندھ حکومت اور الیکشن کمیشن کی جانب سے بدترین دھاندلی قابل مذمت ہے۔
8. حکومت سندھ کی جانب سے سیلاب زدگان کے لیے ملنے والی بین الاقوامی امداد میں کرپشن کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دنیا بھر سے ملنے والی امداد میں ہونے والی بدعنوانی کی تحقیقات کر کے اعداد و شمار سامنے لائے جائیں۔
9. قائد سندھ جی ایم سید کے 119 ویں یوم پیدائش کے موقع پر سندھ حکومت اور ریاستی اداروں کی جانب سے سندھ بھر سے آنے والے قافلوں کی سڑکیں بلاک کرنے اور قومی کارکنوں کی گرفتاریوں، گمشدگیوں اور ہراساں کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔