لندن (ہیلتھ ڈیسک): سائنسدانوں نے پہلی بار انسانی شریانوں میں پلاسٹک کے ننھے ذرات کو دریافت کیا ہے۔برطانیہ کی Hull یونیورسٹی اور Hull یورک میڈیکل اسکول کی تحقیق میں فوڈ پیکجنگ اور پینٹ میں استعمال ہونے والے پلاسٹک کے ذرات کو انسانی شریانوں میں دریافت کیا گیا۔
A team of scientists from the University of Hull, @HullYorkMed, and @HullHospitals have discovered #microplastics in vascular tissue for the first time, suggesting they can pass to human tissue through blood vessels.
Read more: https://t.co/4USOrcX1QZ pic.twitter.com/rZNWsc9p4t
— University of Hull (@UniOfHull) February 1, 2023
اس تحقیق میں بائی پاس سرجری کے عمل سے گزرنے والے مریضوں کی Saphenous شریانوں کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا تھا۔
پلاسٹک کے ننھے ذرات جسم کے کن حصوں کو متاثر کرسکتے ہیں؟
محققین نے شریانوں کے ہر گرام ٹشوز میں اوسطاً 5 مختلف اقسام کے پلاسٹک کے 15 ننھے ذرات کو دریافت کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ہم اس دریافت سے حیران رہ گئے، ہم یہ پہلے سے جانتے تھے کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات خون میں موجود ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ پلاسٹک کے ذرات شریانوں سے گزر کر دیگر ٹشوز تک پہنچ سکتے ہیں یا نہیں، مگر نتائج سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ ایسا ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابھی ہم ان ذرات سے انسانی صحت پر مرتب اثرات کے حوالے سے کچھ نہیں جانتے، مگر لیبارٹری تجربات میں معلوم ہوا کہ اس سے ورم اور تناؤ کا ردعمل بڑھ سکتا ہے۔
محققین کے خیال میں اس سے دل کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل Plos One میں شائع ہوئے۔
انسانی خون میں پہلی بار پلاسٹک کے ذرات پائے گئے، ماہرین کو تشویش لاحق
اس سے قبل ستمبر 2022 میں جریدے اے سی ایس انوائرمنٹل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات جگر اور پھیپھڑوں کے خلیات میں داخل ہوکر ان کے افعال کو متاثر کرسکتے ہیں ، جس سے صحت کو منفی اثرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ روزمرہ کی زندگی میں پلاسٹک سے بچنا ممکن نہیں، کیونکہ ہمارے اردگرد موجود بیشتر مصنوعات پلاسٹک سے بنتی ہیں یا ان پر پلاسٹک پیکنگ ہوتی ہے۔
ان مصنوعات سے پلاسٹک کے بہت چھوٹے ذرات کا اخراج ہوتا ہے جو حادثاتی طور پر جسم کے اندر جاسکتے ہیں۔