Nijat News
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • دنیا
  • پاکستان
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • صحت
  • کاروبار
  • ویڈیوز
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • دلچسپ و عجیب
  • بلاگ
  • رازداری کی پالیسی
  • Contact
Reading: سپریم کورٹ: سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل غیرقانونی قرار
Share
Nijat NewsNijat News
Font ResizerAa
Search
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • دنیا
  • پاکستان
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • صحت
  • کاروبار
  • ویڈیوز
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • دلچسپ و عجیب
  • بلاگ
  • رازداری کی پالیسی
  • Contact
Follow US
© 2022 Nijat News. Ruby Design Company. All Rights Reserved.
Nijat News > پاکستان > سپریم کورٹ: سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل غیرقانونی قرار
پاکستان

سپریم کورٹ: سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل غیرقانونی قرار

Published October 23, 2023
Tags: Featured فیصلہ چار ایک کی اکثریت سے سنایا
Share
SHARE

اسلام آباد (ویب ڈیسک): سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل غیرقانونی قرار دیتے ہوئے نو مئی کے تمام ملزمان کا ٹرائل عام عدالتوں میں کرنے کا حکم جاری کردیا۔نجی ٹی وی چینل کے مطابق سپریم کورٹ میں آج سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا اور کچھ دیر قبل سنادیا۔

فیصلہ جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں پانچ رکن لارجر بینچ نے سنایا جس میں جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل تھے۔ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ چار ایک کی اکثریت سے سنایا جس میں فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف درخواستیں منظور کرلی گئیں۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے فیصلے سے اختلاف کیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں ملٹری ایکٹ کی سیکشن ٹو ون ڈی کی دونوں ذیلی شقوں کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے 9 مئی کے تمام ملزموں کا ٹرائل عام عدالتوں کرنے کا حکم جاری کردیا۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ ملزموں کے جرم کی نوعیت کے اعتبار سے مقدمات عام عدالتوں میں چلائے جائیں۔ عدالت نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی شق 59(4) کو بھی غیر آئینی قرار دیا۔

عدالت نے 9 متفرق درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بینچ میں شامل تھے۔

سماعت کے آغاز پر جواد ایس خواجہ کے وکیل احمد حسین پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ میں گزشتہ سماعت کا حکمنامہ پڑھنا چاہوں گا۔

بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آخری سماعت میں اٹارنی جنرل روسٹرم پر تھے اس لیے پہلے اٹارنی جنرل کو دلائل مکمل کرنے دیں۔ وکیل سابق چیف جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ میں تین اگست کا حکم نامہ عدالت کے سامنے پڑھنا چاہتا ہوں، جس پر جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ ہم نے وہ آرڈر پڑھا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ حتمی دلائل دیں، پھر دیکھتے ہیں کہ عدالتی کارروائی کو آگے کیسے چلانا ہے۔

وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت میں یقین دہانی کروانے کے باوجود فوجی عدالتوں نے سویلین کا ٹرائل شروع کر دیا ہے، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہمیں اس بارے میں معلوم ہے، ہم پہلے اٹارنی جنرل کو سن لیتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہا کہ میں گزشتہ سماعت کا خلاصہ دوں گا اور میں بتاؤں گا کہ موجودہ ٹرائل کے لیے کیوں آئینی ترمیم ضروری نہیں تھی، میں آرٹیکل 175 پر بھی بات کروں گا، لیاقت حیسن کیس کا پیرا گراف بھی پڑھوں گا، 21 ویں آئینی ترمیم کے فیصلے کی روشنی میں بھی دلائل دوں گا اور اس سوال کا جواب بھی دوں گا کہ کیا ملزم کا اسٹیٹس فرد جرم کے بعد ملتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ 9مئی کے ملزمان کا ملٹری عدالتوں میں ٹرائل سول عدالتوں کی طرز پر ہی کیا جائے گا، شہادتیں ریکارڈ کی جائیں گی اور فیصلے میں تفصیلی وجوہات بھی لکھی جائیں گی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ 2015 والے ملزمان کا اسٹیٹس کیا تھا، کیا 2015 کے ملزمان ہمارے شہری تھے یا کالعدم تنظیموں کے ممبران تھے۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ان ملزمان میں شہری بھی تھے اور کالعدم تنظیموں کے ممبران بھی، ملزمان کا ٹو ون ڈی کے تحت ٹرائل کیا جائے گا۔ سوال پوچھا گیا تھا کہ ملزمان پر چارج کیسے فریم ہوگا۔ آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل میں فوجداری مقدمہ کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے اور 9مئی کے ملزمان کا ٹرائل فوجداری عدالت کی طرز پر ہوگا، فیصلے میں وجوہات دی جائیں گئیں شہادتیں ریکارڈ ہوں گی۔

اٹارنی جنرل عثمان منصور نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تمام تقاضے پورے ہوں گے، ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں بھی میں اپیلیں آئیں گی، دلائل کے دوران عدالتی سوالات کے جوابات بھی دوں گا، دلائل میں مختلف عدالتی فیصلوں کے مندرجات کا حوالہ بھی دوں گا۔ ممنوعہ علاقوں اور عمارات پر حملہ بھی ملٹری عدالتوں میں جا سکتا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ دہشت گردوں کا ٹرائل کرنے کے لیے آئینی ترمیم ضروری تھی عام شہریوں کے لیے نہیں؟ میں آپ کے دلائل کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آرمڈ فورسز سے ملزمان کا ڈائریکٹ تعلق ہو تو کسی ترمیم کی ضرورت نہیں۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آرمی ایکٹ آرمڈ فورسز کے اندر ڈسپلن کی بات کرتا ہے جبکہ جسٹس مظاہر علی نقوی نے کہا کہ آپ آرمی ایکٹ کا دیباچہ پڑھیں۔

جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیے کہ قانون پڑھیں تو واصح ہوتا ہے یہ تو فورسز کے اندر کے لیے ہوتا ہے، آپ اس کا سویلین سے تعلق کیسے دیکھائیں گے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی ایکٹ افسران کو اپنے فرائض سرانجام دینے کا بھی کہتا ہے، کسی کو اپنی ڈیوٹی ادا کرنے سے روکنا بھی اس قانون میں جرم بن جاتا ہے۔

جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس میں کہا کہ لیکن قانون مسلح کے اندر موجود افراد کی بھی بات کرتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ بات فورسز میں ڈسپلن کی حد تک ہو تو یہ قانون صرف مسلح افواج کے اندر کی بات کرتا ہے لیکن جب ڈیوٹی سے روکا جائے تو پھر دیگر افراد بھی اسی قانون میں آتے ہیں۔

جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ آپ کی تشریح جان لی جائے تو آپ کسی پر بھی یہ قانون لاگو کر دیں گے؟ ایسی صورت میں بنیادی حقوق کا کیا ہوگا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی ایکٹ وقتی طور پر آرمڈ فورسز کے ساتھ کام کرنے والوں کی بھی بات کرتا ہے۔ جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ یہ معاملہ صرف سروس سے متعلق ہے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آئین اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ آرمڈ فورسز ممبران کو ڈیوٹی سے روکنے والے عام شہری بھی ہوسکتے ہیں۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آئین کہتا ہے بنیادی حقوق کے خلاف کوئی قانون نہیں بنے گا، آئین اور قانون فرائض کی ادائیگی کی پابند آرمڈ فورسز کو کرتا ہے، قانون انہیں کہتا ہے کہ آپ فرائض ادا نہ کر سکیں تو آئین کے بنیادی حقوق کا حصول آپ پر نہیں لگے گا، آپ اس بات کو دوسری طرف لے کر جا رہے ہیں، آپ کہہ رہے ہیں جو انہیں ڈسٹرب کرے ان کے لیے قانون ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمڈ فورسز سے تعلق کی اصطلاح بھی موجود ہے، میں لیاقت حسین کیس سے بھی دلائل دینا چاہوں گا۔

گزشتہ روز، زیر حراست افراد کے لواحقین نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے مقدمہ کے متاثرہ فریق ہیں لہٰذا سپریم کورٹ ہمیں مقدمہ میں فریق بنائے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ فریق بنا کر ملٹری اتھارٹی کو جلد ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دے۔

واضح رہے کہ سانحہ 9 مئی میں ملوث سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع ہوگیا ہے اور اس متعلق وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کو متفرق درخواست میں آگاہ کر دیا ہے۔

وفاقی حکومت نے متفرق درخواست میں بتایا کہ 9 اور 10 مئی کے واقعات کی روشنی میں 102 افراد گرفتار کیے گئے، زیر حراست افراد کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرائل کیا جا رہا ہے اور جو فوجی عدالتوں میں ٹرائل میں قصوروار ثابت نہ ہوا وہ بری ہوجائے گا۔

متفرق درخواست کے مطابق فوجی عدالتوں میں ہونے والا ٹرائل سپریم کورٹ میں جاری مقدمے کے فیصلے سے مشروط ہوگا۔ فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے بعد جو قصوروار ثابت ہوگا ان کو معمولی سزائیں ہوں گی جبکہ 9 اور 10مئی کے واقعات میں ملوث جو افراد جرم کے مطابق قید کاٹ چکے انہیں رہا کر دیا جائے گا۔

فوجی ٹرائل کے بعد سزا یافتہ قانون کے مطابق سزاوں کے خلاف متعلقہ فورم سے رجوع کر سکیں گے۔ سپریم کورٹ کے 3 اگست کے حکمنامے کی روشنی میں عدالت کو ٹرائلز کے آغازسے مطلع کیا جا رہا ہے۔

فوجی تحویل میں لیے گئے افراد کو پاکستان آرمی ایکٹ 1952 اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، گرفتار افراد جی ایچ کیو راولپنڈی اور کور کمانڈر ہاوس لاہور پر حملے میں ملوث ہیں، گرفتار افراد پی اے ایف بیس میانوالی اور آئی ایس آئی سول لائنز فیصل آباد پر حملے میں ملوث ہیں، گرفتار افراد حمزہ کیمپ، بنوں کیمپ اور گوجرانوالہ کیمپ پر حملے میں ملوث ہونے پر تحویل میں ہیں۔

اس سے قبل، فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف کیس کی گزشتہ سماعت 3 اگست کو ہوئی تھی۔

TAGGED:Featuredفیصلہ چار ایک کی اکثریت سے سنایا
Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article عام انتخابات کیس: 90 دن میں الیکشن ممکن نہیں، وہ بات بتائیں جو ممکن ہو: چیف جسٹس کے ریمارکس
Next Article بحیرہ عرب میں طوفان ‘تیج’ شدید ہوگیا، عمان اور یمن کے قریب پہنچ گیا
Leave a Comment

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

پاپولر

’فیفا ورلڈ کپ 2022‘ کا آفیشل گانا ’لائٹ دی اسکائے‘ ریلیز

فیڈریشن انٹرنیشنل فٹ بال ایسوسی ایشن‘ (فیفا) کے عالمی ورلڈ…

October 8, 2022
سونے کے سکّے دینے والی آٹو میٹڈ ٹیلر مشین

بھارت میں سونے کے سکے نکالنے والی پہلی ’اے ٹی ایم‘ متعارف

بھارت میں پہلی بار سونے کے سکّے دینے والی آٹو…

December 15, 2022
Imran Khan Speech

جنرل باجوہ کے NRO II میں تما گندے عناصر کو “ڈرائی کلین” کر دیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان…

December 15, 2022

خاص آپ کے لیے

پاکستانتازہ ترین

اسد عمر پارٹی عہدے سےمستعفی،کوئی دباؤ نہیں، اپنی مرضی سے عہدہ چھوڑا

اسلام آباد (ویب ڈیسک): پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جنرل سیکرٹری اسد عمر نے عہدہ اور کورکمیٹی کی…

May 25, 2023
پاکستان

لاہور جلسہ؛ علی گنڈاپور کی قیادت میں قافلہ روانہ، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن تیار

(ویب ڈیسک): پشاور: پی ٹی آئی کے لاہور جلسے کے لیے علی گنڈاپور کی قیادت میں قافلہ روانہ ہوگیا جب…

September 21, 2024
پاکستان

ملکی اداروں کیخلاف فیٹف کو خط لکھنے والے افرادکو قانون کی گرفت میں لانےکا فیصلہ

(ویب ڈیسک):ملکی اداروں کے خلاف فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کو خط لکھنے پر وفاقی حکومت نے جرائم پیشہ افراد…

July 2, 2023
پاکستان

موقف واضح ہے PTI کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے،فضل الرحمان

اسلام آباد (ویب ڈیسک): پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جے…

April 28, 2023
Nijat News

فہرست

  • تازہ ترین
  • دنیا
  • پاکستان
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • صحت
  • کاروبار
  • ویڈیوز
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • دلچسپ و عجیب
  • بلاگ

 

  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • دلچسپ و عجیب
  • بلاگ

 

  • کھیل
  • صحت
  • کاروبار
  • ویڈیوز

فہرست

  • تازہ ترین
  • دنیا
  • پاکستان
  • انٹرٹینمنٹ

© 2022 Nijat News.  All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?