ٹنڈو محمد خان- کراچی (ویب ڈیسک): سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی ڈیجیٹل آبادی کے خلاف عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں ٹنڈو محمد خان پہنچے، جہاں سندھ ترقی پسند پارٹی کے کارکنوں نے ان کا استقبال کیا اور جلوس کی شکل میں انہیں ٹنڈو محمد خان بار کونسل لے جایا گیا، جہاں انہوں نے بار کونسل سے خطاب کیا. جس کے بعد ٹنڈو محمد خان کے شہریوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں ، ادیبوں اور شاعروں کے کارنر اجتماع سے اور میٹ دی پریس سے بھی خطاب کیا۔
سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک معاشی اور سیاسی بحرانوں سے گزر رہا ہے۔ پوری دنیا میں مردم شماری ہوتی ہے اور اس کے اعداد و شمار کی بنیاد پر منصوبہ بندی کی جاتی ہے لیکن پاکستان میں 1991 سے اب تک آبادی کے اعداد و شمار کو بدل کر محکوم قوموں کے حقوق غصب کرنے کی سازشیں کی جاتی رہی ہیں۔
اس وقت یہ حکمران جس انداز میں مردم شماری کر رہے ہیں اس پر سندھ کو شدید اعتراض ہے، مردم شماری کے لیے غلط وقت کا انتخاب کیا گیا ہے ، آدھا سندھ ابھی تک سیلاب کی تباہ کاریوں کی زد میں ہے۔ سیلاب متاثرین گھروں سے باہر ہیں۔ کندھ کوٹ گھوٹکی اور کشمور میں ڈاکوؤں کا راج ہے جس کی وجہ سے یہ علاقہ نو گو ایریا بن چکا ہے۔ جس کی وجہ سے آبادی کا ایک بڑا حصہ شمار سے باہر رہ جائے گا اور سندھ کے شہریوں میں غیر ملکی آبادکاری کے بڑی تعداد موجود ہیں، جن کی نا شناخت کی گئی ہے نا ان کو علیحدہ خانوں میں لکھا گیا ہے ۔
یہ بات انہوں نے کل کراچی میں سندھ حکومت کی جانب سے مردم شماری اورسندھ کے تحفظات کے موضوع پر بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس مٰیںبھی کی تھی.
انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکیوں کی آباد کاری اور گنتی کے لیے الگ خانہ ہونا چاہیے، ہم اس مردم شماری کو سندھ کے اقتدار پر قبضہ کرنے کی سازش سمجھتے ہیں، اس لیے سندھ کا مطالبہ ہے کہ اس مردم شماری کو فوری طور پر روکا جائے، ورنہ اس مردم شماری کے اعدادوشمار کو قبول نہیں کیا جائے گا.
اس موقع پر سندھ ترقی پسند پارٹی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر احمد نوناری، اقبال حاجانہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
دوسری جانب سندھ ترقی پسند پارٹی کی جانب سے ڈیجیٹل آبادی کے خلاف پریس کلب کراچی کے سامنے شروع کیا گیا احتجاجی کیمپ 15 روزبھی جاری رہا۔
سندھ ترقی پسند پارٹی کے مرکزی رہنما گلزار سومرو، ڈاکٹر سومار منگریو، قادر چنا، نثار کیریو، گرم خان گاڈہی، عاشق تھہیم اور دیگر نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مردم شماری صرف گنتی نہیں بلکہ سندھ کی قومی بقا اس سے وابستہ ہے اس لیے اس مردم شماری کے نتائج کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ اب یہ مردم شماری متضاد ہو چکی ہے۔ لہٰذا وفاقی حکومت اور حکومت سندھ کا فرض ہے کہ مردم شماری کا مرحلہ فوری طور پر روک کر عوام کا پیسہ بچایا جائے اور سندھ کے تحفظات کو ختم کیا جائے اور نئے پلان کے ساتھ وقت پر مردم شماری کرائی جائے۔
احتجاج میں برطانیہ سے آئے ہوئے ساجن چنا نے اپنے وفد کے ہمراہ احتجاجی کیمپ سے اظہار یکجہتی کیا اور ایس ٹی پی کی جدوجہد کی حمایت کی۔