لاس اینجلس (ہیلتھ ڈیسک): خون میں پائے جانے والے فارایور کیمیکلز بچوں کی نشونما میں رکاوٹ قرار دیے گئے ہیں. ایک نئی تحقیق کے مطابق روز مرہ کی بنیاد پر استعمال کی جانے والی اشیاء (غذاؤں کےلفافے، میک اپ اور کارپٹ) میں پائے جانے والے ممکنہ زہریلے کیمیا انسانوں کی نشونما کے لیے ضرورتی ہارمونل اور تحولی اطوار میں تبدیلی کا سبب بن رہے ہیں۔تحقیق میں محققین نے بچوں، نوجوانوں اور بڑی عمر کے افراد کے خون کے نمونوں کا جائزہ لیا۔ ان تمام افراد کے خون کے نمونوں میں ’فار ایور کیمیکلز‘ کہلائے جانے والے پر فلورو الکائل اور پولی فلورو الکائل(پی ایف ایز) نامی مختلف سائنتھیٹک مرکبات پائے گئے۔ پائے جانےو الے ان کیمیا میں PFOS, PFOA, PFHxS, PFNA, PFHpS اور PFDA بھی شامل تھے۔
امریکا کے ادارہ برائے ماحولیاتی تحفظ کی جانب سے حال ہی میں امریکا میں پینے کے پانی میں ان متعدد کیمیکلز کی سطح کو سختی سے قابو کرنے کے لیے قواعد و ضوابط کا اعلان کیا گیا ہے۔یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے کیک اسکول آف میڈیسن میں پاپولیشن اور پبلک ہیلتھ سائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر اور تحقیق کے سربراہ مصنف جیسی گُڈرِچ کے مطابق پی ایف ایز کے مرکبات کے افشا ہونے سے صرف لِپِڈ اور امائنو ایسڈ میٹابولزم میں خلل نہیں آتا بلکہ بچوں میں تھائیرائڈ ہارمون کے عمل میں بھی تبدیلی آتی ہے۔
بچوں کی باقاعدہ نشو نما کے لیے تھائیرائڈ دو اہم ہارمونز بناتا ہے جو بلڈ پریشر کو قابو کرنے اور جسم کے پروٹین، چکنائی اور کاربوہائیڈریٹس بنانے اور ان کے استعمال کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ یہ پیغام رساں کیمیا جسم کے ہر خلیے کو متاثر کرتے ہیں۔امائنو ایسڈ جسم میں خامرے، ہارمون، پروٹین اور دیگر ضروری مالیکیول بنانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں جبکہ لِپِڈ وٹامن کے ذخیرہ کیے جانے، ہارمون کی پیداوار میں مدد اور چکنائی کے توانائی میں بدلنے اور اس کے استعمال یا ذخیرہ کرنے کے عمل کو دیکھتے ہیں۔
انوائرنمنٹل ورکنگ گروپ کے سینئر سائنس دان ڈیوڈ اینڈریوز(جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے) کے مطابق یہ تحقیق پی ایف ایز کے انسانوں پر افشا ہونے کے سبب ہارمون کی سطح کے متاثر ہونے کا بغور لیا جانے والا صرف ایک جائزہ ہی نہیں بلکہ مختلف تحولی اطوار کا متاثر ہوا جانا بھی شامل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان تحولی اشاریوں میں تبدیلیاں مستقبل میں بچوں میں صحت کے متعلق متعدد و مختلف نتائج کا اشارہ ہوسکتا ہے جیسے کہ موٹاپے کے خطرات میں اضافہ، انسولین مزاحمت، چکنائی کے سبب امراضِ جگر اور ممکنہ کینسر کے خطرات میں اضافہ۔
جبکہ ایک تازہ مگر مختصر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسانوں میں بھوک بڑھانے والے خصوصی ہارمون سے ’ہارٹ فیل‘ کے مریضوں کا علاج کیا جا سکتا ہے اور مذکورہ ہارمون کے استعمال سے ہارٹ فیل جیسی سنگین بیماری سے بھی بچا جا سکتا ہے۔انسان کا دل اس وقت ناکارہ ہوجاتا ہے جب اسے مطلوبہ خون مہیا نہیں ہو پاتا اور دل کو خون کی مناسب ترسیل نہ ہونے کی متعدد وجوہات ہوتی ہیں،جن میں سے بعض سنگین بھی ہوتی ہیں۔
اگرچہ خیال کیا جاتا ہے کہ دل ناکارہ ہونے سے انسانی جان نہیں بچ پاتی، تاہم بعض اوقات ہارٹ فیل ہونے کے باوجود انسان کی زندگی بچ جاتی ہے لیکن ایسے کیسز میں متاثرہ مریض کو بروقت طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔یورپی ماہرین نے ہارٹ فیل کے مریضوں کو خون کی مناسب اور ترتیب وار خون کی ترسیل کے لیے ایک مختصر تحقیق کی، جس کے نتائج نے ماہرین کو بھی حیران کردیا اور انہوں نے اس پر مزید تحقیق پر زور دیا ہے۔
طبی جریدے ’یورپین ہارٹ جرنل‘ میں شائع تحقیق کے مطابق ماہرین نے 30 رضاکاروں پر بھوک بڑھانے والے ہارمون (acyl ghrelin) کے اثرات جانجنے کے لیے تحقیق کی۔تحقیق میں شامل تمام رضاکاروں کے ماضی میں دل فیل ہوچکے تھے اور انہوں نے متعدد ادویات سے صحت اور زندگی پائی تھی۔
ماہرین نے تمام رضاکاروں کو دو گروپوں میں تقسیم کرکے ایک گروپ کو بھوک بڑھانے والے ہارمون (acyl ghrelin) سے دوائی دی جب کہ دوسرے گروپ کو ماہرین نے فرضی دوائی دی۔تمام رضاکاروں کو دو گھنٹے تک فیوژن ڈرپ لگایا گیا اور انہیں ایسے عمل سے دو سے پانچ بار وقفے وقفے سے گزارا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جن رضاکاروں کو بھوک بڑھانے والے ہارمون (acyl ghrelin) سے تیار دوائی دی گئی ان کے دل کی حالت دوسرے گروپس کے مقابلے 28 فیصد بہتر ہوئی اور ان کے دل کو مناسب اور معیاری مقدار میں مطلوبہ خون کی ترسیل بھی ہوئی۔علاوہ ازیں تمام رضاکاروں پر دوائی کے دوسرے کوئی منفی اثرات بھی نوٹ نہیں کیے گئے، ان میں پیٹ کے درد، بلڈ پریشر کم ہوجانے یا بڑھ جانے سمیت دیگر شکایات بھی سامنے نہیں آئیں۔
ماہرین کے مطابق مختصر اور محدود تحقیق سے معلوم ہوا کہ بھوک بڑھانے والے ہارمون (acyl ghrelin) سے دوا ہارٹ فیل کے مریضوں پر بہترین طریقے سے کام کرتی ہے، اس لیے مذکورہ معاملے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ماہرین کا کہنا تھا کہ مذکورہ معاملے پر مزید تحقیق کرکے ہارٹ فیل کے مریضوں کے لیے علاج کے نئے طریقے تلاش کیے جائیں۔