کراچی (شوبز ڈیسک): لگ بھگ ایک دہائی قبل معروف گلوکار و سماجی رہنما شہزاد رائے کے ساتھ ’اپنے اُلو کتنے ٹیڑھے، اب تک ہوئے نہ سیدھے‘ گانے سے شہرت حاصل کرنے والے بلوچ لوک فنکار واسو خان طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے معروف لوک گلوکار واسو خان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی لوک داستانوں میں حب الوطنی اور بہادری کا درس دیا.
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مرحوم داسو خان نے اپنی لوک داستانوں میں حب الوطنی اور بہادری کا درس دیا اور ان کی وجہ شہرت منفرد انداز میں ہمارے اسلاف کی حقیقی تعلیمات سے نوجوان نسل کو روشناس کرانا تھا۔
وزیراعلیٰ نے اہل خان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔
گلوکار شہزاد رائے نے 24 فروری کو اپنی مختصر ٹوئٹ میں واسو خان کے انتقال کی تصدیق کی۔گلوکار نے بلوچ فنکار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اگرچہ پڑھنے اور لکھنے سے قاصر ہوتے تھے لیکن اس باوجود انہوں نے شاندار سیاسی طنزیہ مواد تحریر کیا۔
Wasu Khan passed away this morning. He was unable to read and write, but had great political intellect and wrote political satire. We will miss him. Inna lillahi wa inna ilayhi raji'un #WasuKhan pic.twitter.com/glQdHURW7k
— Shehzad Roy (@ShehzadRoy) February 24, 2023
شہزاد رائے نے واسو خان کی تعریفیں کرتے ہوئے لکھا کہ مداح انہیں ہمیشہ یاد رکھیں گے۔گلوکار نے واسو خان کے ساتھ گائے گئے اپنے مشہور گانے ’اپنے اُلو کتنے ٹیڑھے، اب تک ہوئے نہ سیدھے‘ کی کلپ بھی شیئر کی۔
واسو خان ذیابیطس سمیت سانس کی بیماریوں کا شکار تھے، اگست 2020 میں ان کی کسمپرسی میں زندگی گزارنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں، جس کے بعد بلوچستان حکومت نے ان کی مالی مدد کی تھی۔
واسو خان گزشتہ دو سال سے بلوچستان اور سندھ کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج رہے تھے اور زندگی کے آخری ایام میں بھی وہ صوبہ سندھ کے شہر سکھر کے ہسپتال میں زیر علاج تھے، جہاں 24 فروری کو وہ انتقال کر گئے۔
واسو خان نے ابتدائی طور پر 2011 کے آخر میں شہزاد رائے کے ساتھ ’اپنے اُلو کتنے ٹیڑھے، اب تک نہ ہوئے سیدھے‘ گانا کیا تھا۔اس کے بعد دونوں نے 2012 میں جیو ٹی وی پر ’واسو اور میں‘ نامی سماجی شو کیا تھا، جس میں وہ ملکی حالات پر بات کرتے دکھائی دیے تھے۔
واسو خان کو شہزاد رائے کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے ملک گیر شہرت ملی، تاہم اس سے قبل ہی وہ بلوچستان اور سندھ میں مقبول تھے اور انہوں نے متعدد بلوچی اور سندھی گانے گائے۔
واسو خان کے انتقال پر متعدد سوشل میڈیا صارفین نے اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کی مغفرت کی دعائیں کیں اور انہیں خراج تحسین بھی پیش کیا۔