حیدرآباد (ویب ڈیسک): سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے صوبائی کمشنر مردم شماری رفیق احمد سے فون پر رابطہ کیا اور صرف کراچی میں مردم شماری کے دنوں کی تعداد بڑھانے پر شدید اعتراض کیا۔ ڈاکٹر قادر مگسی کا کہنا تھا کہ آدھا سندھ سیلاب سے متاثر ہونے کے سبب دربدر ہے. سندھ کے اوپر والے اضلاع ڈاکو راج کے سبب نو گو ایریا بنے ہوئے ہیں. اور سندھ کے دور دراز علاقوں میں کوئی گنتی نہیں ہوئی ہے کیونکہ فیلڈ کے عملے کو وہاں پہنچنے کے لئے کوئی ٹرانسپورٹ کا انتظام بھی نہیں تھا. جس کے باوجود صرف کراچی کے لیے 15 دن مختص کیے گئے ہیں۔ ہم اس طرح کے جوڑ توڑ اور من مانے نتائج کو قبول نہیں کریں گے۔
دوسری جانب اپنے جاری کردہ بیان میں سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا ہے کہ ہم ڈیجیٹل مردم شماری کے نام پر فراڈ کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
مردم شماری کے وقت پوری سندھ نے احتجاج کیا اور مردم شماری کے طریقہ کار اور وقت کو مسترد کرتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کیا لیکن ان حکمرانوں نے ایک طرف نہ صرف سندھ کی آواز کو نظر انداز کیا اور مردم شماری کو جاری رکھا بلکہ دوسری طرف حال ہی میں ایم کیو ایم کی درخواست پر صرف کراچی میں مردم شماری کے دنوں میں توسیع کی گئی ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت نے اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے ایم کیو ایم کی شرائط مان لی ہیں۔ تاکہ وہ اعتماد کا ووٹ حاصل کر سکے۔
ڈجیٹل مردم شماری کے نام پر سندھ سے حق حاکمیت چھیننے اور ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی کوشش کی جاری ہے
ایم کیو ایم کو خوش کرنے لیے پی ڈی ایم اور پ پ پ صرف کراچی کی مردم شماری کے دن میں توسیع کی گئی ہے pic.twitter.com/ntftMjm7eN
— Dr Qadir Magsi (@QadirMagsiSTP) April 29, 2023
چیف کمشنر آف پاپولیشن نے باقاعدہے خط لکھ کر فاروق ستار کو مبارکباد دی کہ کراچی کی آبادی میں 20 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ ایس ٹی پی کے سربراہ نے کہا کہ ایک سازش کے تحت کراچی کے اعداد و شمار کو ڈی فیکٹو مردم شماری کے تحت بڑھاتے ہوئے ایک کروڑ 78 لاکھ کو 3 کروڑ میں تبدیل کرنے کی سازش کی گئی۔ جس کے لیے ایم کیو ایم کو پی ڈی ایم اور پی پی پی کی جانب سے حالیہ ملاقات میں یقین دہانی کرائی گئی تھی کیونکہ انہیں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا تھا۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ سندھ سے دشمنی کی ہے، مستقبل میں بلاول کو ہی وزیراعظم بننا ہے، جس کے لیے وہ ایم کیو ایم کو راضی کر رہے ہیں ۔
کراچی کے من مانے اعدادوشمار سے انتخابی حلقوں میں تعداد میں اضافہ کیا جائے گا جس سے کل سندھ پر حکمرانی کا حق سندھ کے اصل باشندوں سے چھینا جائے گا اور سندھ کی ڈیموگرافی بدل جائے گی۔
ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ اس وقت سندھ کی آبادی 5 کروڑ 40 لاکھ ظاہر کی گئی ہے لیکن اگر درست مردم شماری کی جائے تو سندھ کی آبادی سات کروڑ کے لگ بھگ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس مردم شماری کو سندھ کے خلاف سازش سمجھتے ہیں، اس لیے جب تک سندھ کے تمام تحفظات ختم نہیں ہوتے اور مردم شماری درست سمت میں نہیں کرائی جاتی اس کے نتائج کو قبول نہیں کیا جائے گا۔