رانی پور (ویب ڈیسک): رانی پور میں ایک حویلی میں کام کرنے والی معصوم لڑکی کے تڑپ تڑپ کر مرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے. ویڈیو میں ایک کمرے میں ندیم علی پھرڑو کی 10 سالہ بیٹی فاطمہ پھرڑو کو ہانپتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ویڈیو میں لڑکی رو رہی ہے۔اُس کے مرنے کے بعد ایک عورت اور ایک بچہ کمرے میں آتے ہیں۔
لڑکی کی سامنے بستر پر لیٹا ایک شخص تیزی سے اٹھ کر لڑکی کو اٹھاتا ہے۔ ایک اور ویڈیو میں مقتول لڑکی کے جسم پر کپڑے موجود نہیںہیںاور کچھ تشدد کےنشان بھی دکھائی دے رہے ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ لڑکی گزشتہ آٹھ ماہ سے رانی پور میں اپنے مرشد کے گھر میں گھریلو کام کرتی تھی اور آج صبح گھر والوں کو اس کی موت کی اطلاع دی گئی۔
مقتولہ بچی کی والدہ کا کہنا ہے کہ غربت کی وجہ سے بیٹی حویلی میں کام کرتی تھی. اس نے مزید کہنا تھا کہ اسے بتایا گیا کہ یہ پیٹ میں درد کی وجہ سے جان بحق ہوگئی ہے۔جبکہ بچی کے والد نے اپنے بیان میںکہا ہے کہ اس کی بچی بیمار تھی اور مرشدوں نے اُس کا علاج بھی کروایا مگر وہ جانبر نہ ہوسکی.
واقعے سے متعلق ایس ایچ او رانی پور امیر چانگ کا کہنا ہے کہ لڑکی کے لواحقین کے بیانات لیے گئے ہیں۔اس کے جسم پر تشدد کے نشانات نہیں تھے۔
ایس ایس پی خیرپور میر روحل خان کھوسو نے واقعہ کا نوٹس لیکر اے ایس پی گمبٹ محمد نعمان ظفر کو تفتیش کے لیےانکوائری افسر مقرر کر دیاہے۔
ایس ایس پی خیرپور کے حکم پر اے ایس پی اور ایس ایچ او رانی پورنے بچی کے ورثاء سے ملاقات کی۔
پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ معاملے کی ہر طرف سے تحقیقات کررہے ہیں۔جبکہ لڑکی کے والدین نے بیان دیا ہےکہ لڑکی کافی عرصے سے بیمار تھی۔جس کی وجہ سے فی الحال یہی کہاجاسکتا ہے کہ طبعی موت واقع ہوئی ہے، مزید تفتیش کی جا رہی ہے، اور اگر کوئی اور وجہ یا بچی کے قتل ہونے سے متعلق کوئی شواہد سامنے آنے کی صورت میں ملزمان کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں اُنہیںکیفر کردار تک پہنچایا جائے گا.