کراچی (اسپورٹس ڈیسک): معروف اسپورٹس صحافی اور کرکٹ اینالسٹ ڈاکٹر نعمان نیاز کا کہنا ہے کہ وکٹ کیپر بیٹر سرفراز احمد کو سیاسی اثر و رسوخ کی بنا پر پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتانی سے ہٹایا گیا۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے نعمان نیاز نے دعویٰ کیا کہ سرفراز احمد کو کپتانی سے ہٹائے جانے کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے ورلڈکپ 2019 کے میچ میں بھارت کو پہلے بیٹنگ دی تھی۔
ڈاکٹر نعمان نیاز کے مطابق بابراعظم کو یہ سوچے بغیر کپتانی دی گئی کہ ان میں قیادت کی صلاحیتیں اور تجربہ نہیں ہے۔کرکٹ اینالسٹ کے مطابق’ بابراعظم کی کپتانی میں ٹیم میں اتحاد اور ڈریسنگ روم کا ماحول مثالی ہوگیا تھا، پچھلی مینجمنٹ کمیٹی نے بابر اعظم اور رضوان کو آرام کرکے افغانستان کیخلاف سیریز میں شاداب خان کو کپتان بنا دیا ، اس کے بعد پہلی دفعہ ٹیم میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ میں مان لیتا ہوں کہ ٹیم سلیکشن کے دوران بابراعظم کی نیت خراب نہیں ہوگی لیکن بابر کسی اور کو اپنے کمفرٹ زون میں نہیں آنے دیتا، مجھے نہیں سمجھ آتا کہ مسٹری اسپنر ابرار احمد کو ٹیم میں کیوں نہیں کھلایا گیا؟ کیا میں یہ سمجھوں کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ اگر ابرار احمد پرفارم کرتا تو شاداب کی جگہ ٹیم میں ختم ہو جاتی؟
جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عبدالرزاق نے بھی وکٹ کیپر بیٹر سرفراز احمد کو پاکستان کرکٹ ٹیم کا کپتان بنانے کے لیے اچھا آپشن قرار دیا ہے۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں عبدالرزاق، عماد وسیم اور فاسٹ بولر محمد عامر نے شرکت کی جس میں میزبان تابش نے ان سے ٹیسٹ کپتان سے متعلق سوال کیا۔
عبدالرزاق نے نام لیے بغیر کہا کہ دو، تین کھلاڑیوں کو آرام کرانا چاہیے، اگر کپتانی کےلیے جانا ہے تو سرفراز احمد اچھا کپتان ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا ہمارے پاس اچھے کھلاڑی موجود ہیں، ضروری نہیں جس کی ایوریج اچھی ہو اسے کپتان بنادیا جائے، یہیں ہم مار کھاتے ہیں، ہم نے ایک اچھا انسان، کھلاڑی اور کپتان یہ تینوں خوبیوں والے کو منتخب کرنا ہے۔
عبدالرزاق کا یہ بھی کہنا تھا کہ سرفراز ٹیسٹ میچز کے لیے اچھا آپشن ہے، ورنہ رضوان کو بھی کپتان بنایا جا سکتا ہے، شان مسعود بھی اچھے انسان ہیں، سرفراز اور شان دونوں ہی کھلاڑیوں کا خیال رکھتے ہیں۔سابق آل راؤنڈر نے کہا کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے میچ سے بہت کچھ سیکھنا چاہیے، ہمیں اب ان دونوں ٹیموں کی طرز کی کرکٹ کھیلنی چاہیے۔
دوسری جانب محمد عامر نے پاکستان اور بنگلادیش کے میچ کو تگڑا قرار دیا اور کہا کہ ورلڈکپ میں جو ٹیم گئی ہے وہ بابراعظم کی ٹیم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بابر اعظم کے خلاف کوئی ایجنڈہ نہیں چل رہا وہ 4 سال سے کپتان ہے، امام کو ٹیسٹ کرکٹ کا کپتان بنانا اچھا فیصلہ نہیں ہوگا۔
محمد عامر نے مزید کہا کہ جب ٹیم جیتتی ہے یا ہارتی ہے ذمے داری کپتان پر جاتی ہے، کپتان ہی فیس ہے اسی کو جواب دینا ہوگا۔