حیدرآباد (ویب ڈیسک): ایس ٹی پی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے 18 اکتوبر کو پی پی پی کے جلسے کے موقع پر درياءِ سندھ پر کئنال بنانے کے منصوبے کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے حیدرآباد میں ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ سندھ کی زندگی کا ذریعہ ہے، جس پر نہر بنا کر سندھ سے پانی چوری کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ پی پی پی وفاقی حکومت کی مکمل مددگار بنی ہوئی ہے اور وفاقی حکومت دریائے سندھ پر حملے کے لیے نہروں کی منظوری دے رہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی کی قیادت کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ آپ اقتدار میں سندھ کے ووٹ پر ہیں۔
18 اکتوبر کو حیدرآباد کی بائی پاس سڑکوں پر پلے کارڈ اٹھا کر دریائے سندھ پر ڈاکہ کے خلاف پرامن احتجاج کیا جائے گا۔ ہم 18 اکتوبر کو حیدرآباد کے تمام قومی کارکنوں اور شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ دریائے سندھ پر حملے کے خلاف پلے کارڈ لے کر پرامن احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ دریائے سندھ چھے کروڑ لوگوں کی زندگی کا واحد ذریعہ ہے۔ دریائے سندھ سے کئنال نکال کر سندھ کو سندھ کے لوگوں کا قتل گاہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس میں ملکی اسٹیبلشمنٹ اور پی پی پی دونوں شامل ہیں۔ سندھ کا عوام اپنے زندگی کے واحد ذریعہ دریائے سندھ کو بچانے کے لیے ہر ممکن قربانی دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ ملک کے آئین اور قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے سندھ سے چولستان کئنال کے لیے بجٹ رکھا گیا ہے، جس سے پنجاب کی ہٹ دھرمی ظاہر ہو رہی ہے۔ ایس ٹی پی کے رہنما ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ ہمارا احتجاج پرامن ہوگا، کوئی سڑک اور راستہ بند نہیں ہوگا۔ اس احتجاج کے ذریعے ہم بلاول بھٹو کو یہ پیغام دیں گے کہ وہ سندھ کے قومی مفادات کے تحفظ میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں اور اسلام آباد میں ہونے والے سندھ دشمن فیصلوں میں پی پی پی بھی شامل ہے، جس پر وفاقی حکومت کھڑی ہے۔ اجلاس میں حیدر شاہانی، ہوت خان گاڑھی، ڈاکٹر عبدالحمید میمن، قادر چنا، امتیاز سموں، ڈاکٹر سومار منگریو ، حیدر ملاح، عاشق سولنگی، خدابخش درس، محمد علی ابڑو اور دیگر نے شرکت کی