حیدرآباد (ویب ڈیسک): عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، مرکزی جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ ساجد حسین مہیسر، مرکزی رہنما ڈاکٹر رسول بخش خاصخیلی، کاشف ملاح، نور نبی پلیجو اور منصور بپڑ نے اپنے مشترکہ پریس بیان میں کہا ہے کہ سندھ کا پانی روک کر حکومت یزیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ دریائے سندھ میں سیلاب کے باوجود پچھڑی کے کسان اور آبادگار پانی نہ ملنے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ پانی نہ ملنے کے سبب فصلیں سوکھ کر تباہ ہو رہی ہیں۔ محکمہ آبپاشی کی نااہلی کے باعث سندھ کی زراعت کو بے تحاشا نقصان ہوا ہے۔
رہنماؤں نے کہا کہ کارپوریٹ فارمنگ کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے جان بوجھ کر سندھ کی زراعت تباہ کی جا رہی ہے، کسانوں اور آبادگاروں کا پانی بند کر کے انہیں زمینیں بیچنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کارپوریٹ فارمنگ منصوبوں اور نئے ڈیموں اور نہروں کی حمایت کر کے سندھی قوم سے غداری کر رہی ہے۔
رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ نئے نہروں اور ڈیموں کے منصوبے فوری طور پر ختم کیے جائیں اور سندھ کو اس کے حصے کا پانی دیا جائے، اور صوبے کے اندر بھی پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے۔ کارپوریٹ فارمنگ کے منصوبے ختم کیے جائیں اور کارپوریٹ کمپنیوں کو الاٹ کی گئی زمینوں کی الاٹمنٹ منسوخ کر کے یہ زمینیں مقامی بے زمین کسانوں کو دی جائیں۔