کراچی (ویبڈیسک): کراچی میں وکلا نے آج ہائیکورٹ سے وزیراعلیٰ ہاؤس تک احتجاجی ریلی نکالی. پی آئی ڈی سی پہنچنے پر بھاری تعداد میں مقرر پولیس اور فورسز نے ریلی کو روکا ، جس پر دھکم پیل کے کچھ واقعات ہوئے ، جس کے بعد سندھ حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی سربراہی میں حکومتی وفد نے ریلی کی قیادت کرنے والے وکلاسے بات چیت کی اور مطالبات پوچھے. وکلا رہنماؤں نے اُن پر واضح کیا کہ یہ لانگ مارچ اور احتجاج کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر سندھ کی زمینوں کی بندربانٹ کے خلاف جاری تحریک کا حصہ ہے اور نہ صرف وکلا مگر سندھ بھر کے عوام کا مطالبہ ہے کہ کارپوریٹ فارمنگ منصوبہ اور دریائے سندھ پر نئے کینالز کسی صورت قبول نہیں کیے جائیں گے.
وکلا رہنماؤں نے واضح مطالبہ رکھا کہ حکومت سندھ صوبہ بھر میں کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر الاٹ شدہ تمام زمینیں منسوخ کرے اور اس پروجیکٹکو اسمبلی فلور پر مسترد کرے .
اس موقع پر ایڈووکیٹ محمد خان شیخ نے کہا کہ ہم سندھ حکومت کو ببرلو میںکیا گیا وعدہ یاد دلانے آئے ہیں.
اس موقع پر وکلا رہنماوں کا کہنا تھا کہ حکومت ہمیں سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ حکومت کارپوریٹ فارمنگ کے حوالے سے کوئی سنجیدگی نہیں دکھا رہی ہے۔
وکیل رہنما عامر نواز وڑائچ کا کہنا ہے کہ ہمیں مارچ کرنے اور اپنے مطالبات پیش کرنے پر مجبور کیا گیا۔