ٹھٹھہ (ویب ڈیسک): خونی ڈمپر حادثے میں 3 معصوم جانوں کی بازی ہار گئے۔10 روز میں ایک ہی مقام پر 6 افراد کی موت، ٹریفک پولیس کی کارکردگی اور مبینہ کرپشن پر شہریوں نے سوالات اٹھا لئے۔ٹھٹھہ سجاول روڈ پر محسن ہاؤس کے سامنے تیز رفتار اور بے قابو ڈمپر نے موٹر سائیکل کو کچل دیا۔ اس المناک حادثے میں ارشاد ولد منا شاہ، ارشاد عرف کارو ولد اعجاز شاہ، گاؤں قاسم شاہ سکنہ بلڑی شاہ کریم (ضلع ٹنڈو محمد خان) اور 2/3 سالہ معصوم بچی بی بی شہناز ولد امیر شاہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
حادثے میں جاں بحق ہونے والے معصوم بچے کی والدہ فہمیدہ شاہ اور دوسرا بچہ شدید زخمی ہوگیا۔ لاش اور زخمیوں کو ریسکیو 1122 کی ایمبولینس کے ذریعے سول ہسپتال مکلی منتقل کیا گیا جہاں پر فضا سوگوار ہو گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق ڈمپر تیز رفتاری کے باعث کنٹرول کھو بیٹھا اور موٹرسائیکل سے جا ٹکرایا۔ حادثے کے بعد مقامی لوگوں نے ڈمپر کا پیچھا کیا اور اسے پٹھان کالونی کے قریب روک دیا۔ انہوں نے ڈرائیور کو مارا پیٹا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔ مشتعل افراد نے ڈمپر کو آگ لگانے کی کوشش بھی کی تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پالیا۔
سندھ پولیس ڈسٹرکٹ ٹھٹھہ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق حادثے کے بعد ڈمپر نمبر JV-2470 کو تحویل میں لے کر ڈرائیور میلا خان ولد مروت خان پٹھان کو گرفتار کر لیا گیا۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے پولیس کی نگرانی میں سول اسپتال مکلی منتقل کر دیا گیا۔
ایس ایس پی ٹھٹھہ فاروق احمد بجارانی کے سخت حکم پر گرفتار ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس نے بھی مرنے والوں کے اہل خانہ سے ہمدردی اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ 10 دنوں میں اسی جگہ چھ افراد کی موت ہو چکی ہے۔ اس سے قبل جعفر بروہی، ذوالفقار اور عباس جاکھرو تیز رفتار ٹریلر کی ٹکر سے جاں بحق ہو گئے تھے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس کی مبینہ کرپشن اور غفلت کے باعث ہیوی ٹریفک کو شہر میں داخل ہونے دیا جاتا ہے جس کے باعث حادثات روز کا معمول بن گئے ہیں۔