اسلام آباد (ویب ڈیسک): پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے پارٹی کو قومی اسمبلی کی تمام کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کی ہدایت کردی۔اڈیالہ جیل کے باہر دیگر دو بہنوں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھاکہ ہم کارکنان کے شکرگزارہیں وہ ہمارے ساتھ یہاں کئی مہینوں سے کھڑے رہے، ہم 3 ماہ سے آرہے تھے ملاقات کرنے نہیں دے رہے تھے اور اللہ کا شکر ہے آج ہماری بانی پی ٹی ٓآئی سے ملاقات ہوئی ہے، چار مہینے بعد ہم سب بہنوں کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ سلمان اکرم راجا، بیرسٹرگوہر اورعلی ظفرسمیت باقی وکلا کی ملاقات بھی ہوئی، بانی پی ٹی آئی کی صحت بالکل ٹھیک ہے، ان کی آنکھ میں کوئی مسئلہ ہے اس کیلئے عدالت میں درخواست دے رہے ہیں، ان کی آنکھوں کے علاج کیلئے پمزاسپتال کے ڈاکٹرز آئیں گے۔
علیمہ خان کا کہنا تھاکہ بانی پی ٹی آئی بشریٰ بی بی کی وجہ سے پریشان ہیں، عمران خان کو شیرشاہ اور شاہ ریز کی گرفتاری کا بتایا۔ان کا مزید کہنا تھاکہ عمران خان نے سزاؤں اور نااہلیوں پر کہا یہ کبھی پاکستان میں نہیں ہوا، کرکٹ کو محسن نقوی نے تباہ کیا ہے۔انہوں نے بتایاکہ بانی پی ٹی آئی نے بونیراوردیگرعلاقوں میں سیلاب کی تباہ کاری پرافسوس کیا۔
علیمہ خان کا کہنا تھاکہ بانی پی ٹی آئی نے پارٹی کو ہدایات دی کہ پارلیمنٹ کی تمام کمیٹیوں سے مستعفی ہوجائیں، بانی پی ٹی آئی نے ضمنی انتخابات کے حوالے سے بیرسٹرگوہراورسلمان اکرم راجہ کو ہدایات دیں اور کہا کہ ضمنی انتخابات میں حصہ لیکران انتخابات کوقانونی جواز فراہم نہیں کرنا چاہیے۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں پی ٹی آئی نے ضمنی انتخابات کیلئے دو حلقوں کے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ضمنی انتخابات پر کچھ شکوک وشبہات ہیں، عمران خان کی ہدایات اگر انتخابات میں حصہ نہ لینے کی ہیں تو بانی کی بات ہی حتمی ہوگی، ان کی ہدایات پر 100 فیصد عمل ہوگا۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ملاقات کے لیے آیا تھا لیکن پولیس نے روک دیا، ملاقات سے روکنا مناسب نہیں،ہمیشہ مفاہمت کی بات کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ناجائز سزاوں، نا اہلیوں اور گرفتاریوں سے دوریاں بڑھیں گی، تپش جاریں رکھیں گے تو ملک کا نقصان ہوگا، عدالتی احکامات واضع ہیں، اوپن ٹرائل کے کون سے لوازمات پورے کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے حکم دیا تھا کہ کوئی بھی پارٹی لیڈر پبلک میں استعفے کا ذکر نہیں کرے گا، بانی کی واضع ہدایت ہے کہ کوئی رہنما پبلک میں کمنٹس بھی نہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ سلمان اکرم راجا سمیت کسی رہنما کو پارٹی معاملات پر ٹوئٹ نہیں کرنی چاہئے، پارٹی کے اندر سے باتیں باہر آتی ہیں تو لوگ سمجھتے ہیں اختلافات ہیں، بدقسمتی سے کوئی نہ کوئی چیز پارٹی کے اندر سے باہر آجاتی ہے جو ہمارے خلاف استعمال ہوتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سلمان اکرم راجا کے استعفے کا سنا ہے لیکن ان کا بیان نہیں پڑھا، انہوں نے 26 نومبر کے بعد بھی استعفیٰ دیا تھا جو بعد میں واپس ہوگیا تھا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ سلمان اکرم راجا کا تحریری طور پر کوئی استعفیٰ موجود نہیں، تاہم لوگ فلمیں نہ چلائیں پارٹی عہدے سے استعفیٰ دینا سنجیدہ ایشو ہے جس کا حتمی فیصلہ بانی پی ٹی آئی خود کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخابات سے متعلق پارٹی نے جو بھی فیصلہ کیا مجھے اس کا علم نہیں کیوں کہ سیاسی کمیٹی کی آخری نشست میں شامل نہیں ہوسکا، تاہم ضمنی انتخابات لڑنے کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی کریں گے۔