اسلام آباد (ویب ڈیسک): اسرائیل نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے مزید 131 ارکان کو ڈی پورٹ کردیا۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے سابق پاکستانی سینیٹر مشتاق احمد سمیت گلوبل صمود فلوٹیلا کے مزید 131 ارکان کو ڈی پورٹ کردیا جس کے بعد ان لوگوں کو اردن پہنچا دیا گیا ہے۔پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اپنی ایکس پوسٹ میں مشتاق احمد کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مشتاق احمداردن میں پاکستانی سفارت خانے میں بحفاظت موجود ہیں۔اسرائیل کی قید سے رہائی کے بعد سابق سینیٹر مشتاق احمد نے ویڈیو بیان جاری کردیا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مشتاق احمد نے کہا کہ 150 ساتھیوں کے ساتھ اردن پہنچ چکا ہوں، 5 دن اسرائیل کے ایک صحرا میں واقع بدنام زمانہ نیگیوڈیزرٹ جیل میں رہے، اس دوران ہمارے ہاتھ پیچھے باندھے گئے، آنکھون پر پٹیاں اور پاؤں میں بیڑیاں ڈالی گئیں۔
مشتاق احمد خان صاحب اسرائیلی جیل سے رہا ہو کر اردن پہنچ گئے۔
ان کا پیغام ہے کہ اڈیالہ سے لے کر اسرائیلی جیل تک مزاحمت جاری رہے گی
(ایڈمن) pic.twitter.com/gJi6zXFUTZ
— Senator Mushtaq Ahmad Khan | سینیٹر مشتاق احمد خان (@SenatorMushtaq) October 7, 2025
اسحاق ڈار نے کہا کہ سفارتخانہ مشتاق احمد کی خواہش اور سہولت کے مطابق ان کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، تمام دوست ممالک کا شکریہ جنہوں نےپاکستان کی وزارت خارجہ کا ساتھ دیا اور مدد کی۔
I am pleased to confirm that former Senator Mushtaq has been released and is now safely with Pakistan Embassy in Amman. He is in good health and high spirits. The Embassy stands ready to facilitate his return to Pakistan, in accordance with his wishes and convenience.
Am pleased… pic.twitter.com/IbZQKvzWyb
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) October 7, 2025
اس حوالے سے اردن کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ مشترکہ انتظامات کے بعد تمام ڈی پورٹ افراد حسین پل کے ذریعے اردن میں داخل ہوئے تاکہ ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ترجمان کے مطابق اردن پہنچے والے افراد میں بحرین، تیونس، الجیریا، عمان، کویت، لیبیا، پاکستان، ترکیہ، ارجنٹائن، آسٹریلیا، برازیل، کولمبیا، جمہوریہ چیک، جاپان، میکسیکو، نیوزی لینڈ، سربیا، جنوبی افریقا، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ، امریکا اور یوراگوئے کے شہری شامل ہیں۔
اسرائیل کی قید سے رہائی کے بعد سابق سینیٹر مشتاق احمد نے ویڈیو بیان جاری کردیا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مشتاق احمد نے کہا کہ 150 ساتھیوں کے ساتھ اردن پہنچ چکا ہوں، 5 دن اسرائیل کے ایک صحرا میں واقع بدنام زمانہ نیگیوڈیزرٹ جیل میں رہے، اس دوران ہمارے ہاتھ پیچھے باندھے گئے، آنکھون پر پٹیاں اور پاؤں میں بیڑیاں ڈالی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے اوپر کتے چھوڑے گئے، بندوقیں رکھی گئیں اور بدترین تشدد کیا گیا، جیل میں ہوا، دوا اور پانی تک کی رسائی نہیں تھی، اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے جیل کے اندر 3 دن تک بھوک ہڑتال بھی کی۔
مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ فلسطین کی آزادی کی جدوجہد جاری رہے گی، غزہ کو بچانے کے لیے کوششیں کریں گے ، مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے، ہم اسرائیلی ناکہ بندی کو بار بار توڑیں گے۔