کراچی (ویب ڈیسک): دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ نئی دہلی ہائی کمیشن میں حکام کی جانب سے بھارتی خاتون سے مبینہ طور پر ’نامناسب‘ سوالات پوچھنے کے الزامات کو دیکھ رہے ہیں اور بدسلوکی کے لیے کوئی برداشت نہیں ہے۔
دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ ہم تمام ویزا اور قونصلر درخواست دہندگان کے ساتھ مناسب رویہ اور برتاؤ کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔
ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ ہمارے پورے سفارتی عملے کو سخت ہدایات ہیں کہ وہ خود کو پیشہ ورانہ طور پر برقرار رکھیں۔ تاہم ترجمان دفتر خارجہ نے پیش آنے والے مبینہ واقعہ اور جس طریقے سے معاملہ اٹھایا گیا اس پر تعجب کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ عوامی شکایات کو حل کرنے کے لیے کچھ سخت طریقہ کار موجود ہیں۔
واضح رہے کہ بھارتی نشریاتی ادارے ’انڈیا ٹو ڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق پنجاب یونیورسٹی کی پروفیسر اور ڈپارٹمنٹ سربراہ نے الزام عائد کیا ہے کہ جب وہ ویزا اپلائی کرنے کے لیے پاکستانی ہائی کمشین گئیں تو وہاں ان سے اسٹاف نے کچھ نامناسب سوالات پوچھے ۔
رپورٹ کے مطابق خاتون نے دعویٰ کیا ہے کہ ’اسٹاف نے مجھ سے پوچھا کہ شادی کب ہوئی، شادی کے بغیر کیسے رہتی ہوں اور جنسی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کیا کرتی ہوں۔‘خاتون نے کہا کہ موضوع تبدیل کرنے کی کوشش کے باوجود بھی حکام نے مسلسل ایسے سوالات پوچھنا جاری رکھے۔
رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاتون پروفیسر لاہور کی ایک یونیورسٹی میں لیکچر دینے آرہی تھیں، تاہم انہوں نے بھارتی ناظم الامور ایس جے شنکر کو خط لکھ کر معاملہ اٹھانے کی درخواست کی ہے۔