طورخم (ویب ڈیسک): طورخم سرحد مسلسل 4 روز سے بند ہے جس کی وجہ سے ڈرائیور جلد خراب ہونے والی غذائی اشیا کے 50 ٹرکس واپس پشاور لانے پر مجبور ہو گئے۔خیال رہے کہ 19 فروری کو افغان طالبان کے حکام نے اسلام آباد پر اپنے وعدوں سے مکرنے کا الزام لگاتے ہوئے پاکستان کے ساتھ ایک اہم تجارتی اور سرحدی گزرگاہ کو بند کر دیا تھا۔
Just in: #Toorkham border crossing point b/w #Pakistan and #Afghanistan, which was closed down by Afghan #Taliban on Sunday, will be reopened tomorrow. The decision was taken during today's meetings between the delegations of both countries. Good move towards de-escalation. https://t.co/dDSYVRJJvr
— Amjad Ali (@amjadalihere) February 22, 2023
طورخم میں طالبان کمشنر مولوی محمد صدیق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی، اس لیے قیادت کی ہدایت پر گیٹ وے کو بند کر دیا گیا ہے۔
افغان طالبان کے عہدیدار نے یہ نہیں بتایا تھا کہ اسلام آباد نے مبینہ طور پر اپنے کس عہد کی خلاف ورزی کی ہے، کچھ غیر مصدقہ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ افغان طالبان پاکستان میں علاج معالجے کے خواہشمند افغان مریضوں کی آمد و رفت پر غیر اعلانیہ پابندی سے ناراض ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی قیادت میں ایک وفد نے کابل کا دورہ کیا تھا، جس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے بڑھتے ہوئے خطرے پر تبادلہ خیال کیا گیا اور ’دونوں فریقین نے دہشت گردی کے خطرے سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے تعاون پر اتفاق کیا۔‘
یہ دورہ کالعدم ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کے کراچی میں پولیس ہیڈکوارٹر پر دھاوا بولنے کے چند روز بعد ہوا ہے جس میں تین سیکیورٹی اہلکاروں سمیت چار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
دوسری جانب تجارتی سرگرمیوں میں مکمل تعطل کے باوجود مقامی پولیس اور سیکیورٹی فورسز تاجروں، کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس اور سیکڑوں یومیہ اجرت پا کام کرنے والوں کو سرحد پار جانے کی اجازت دے کر نرمی کا مظاہرہ کیا۔
#Taliban-led government in #Afghanistan ordered the shut down of one of the country's main trading and border crossing points with #Pakistan, accusing Islamabad of reneging on its commitments. pic.twitter.com/rvAUR8GYqh
— IANS (@ians_india) February 20, 2023
مزدوروں کے ایک گروپ نے سرحد کے قریب احتجاج بھی کیا اور سرحد کھولنے کا مطالبہ دہرایا ۔
ڈرائیوروں نے کہا کہ انہیں تجارتی سامان کے چوری اور شرپسند عناصر کی جانب سے تخریب کاری کا بھی خدشہ ہے۔
انہوں نے اسلام آباد اور کابل سے مطالبہ کیا کہ وہ شہریوں کی سرحد پار جانے کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے معنی خیز مذاکرات شروع کریں، چھوٹے سرحدی مسائل کو سیاسی بنانے سے گریز کریں اور تجارت کو بغیر کسی رکاوٹ کے ہونے دیں۔