پشاور (ویب ڈیسک): سعودی عرب سے متعلق بشریٰ بی بی کے حالیہ متنازع بیان پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ احتجاج سے توجہ ہٹانے کے لیے میڈیا پر بشریٰ بی بی کے حوالے سے سیاق و سباق سے ہٹ کر بیانات چلائے جارہے ہیں۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ انٹرویو میں بشریٰ بی بی نے سعودی عرب یا محمد بن سلمان پر کوئی الزام عائد نہیں کیا۔ بشریٰ بی بی نے یہ بالکل نہیں کہا کہ جنرل باجوہ کو سعودی عرب یا محمد بن سلمان نے کال کرکے شریعت کے بارے میں بات کی۔
انھوں نے کہا کہ محمد بن سلمان اور عمران خان کے مثالی تعلقات ہیں جسے جعلی حکومت نقصان پہنچانے کی کوشش کررہی ہے۔ عمران خان کی مخالفت میں حکومت دو ممالک کے تعلقات کو بھی خاطر میں نہیں لارہی۔
بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ جعلی حکومت بغض عمران میں سعودی عرب میں مزدوری کرنے والے اوورسیز پاکستانیوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت پر احتجاج کا شدید خوف طاری ہے اور احتجاج سے توجہ ہٹانے کےلیے حکومت کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔ احتجاج حکومت کےلیے ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔
بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے بے بنیاد پروپیگنڈوں پر کان نہ دھریں اور احتجاج کی تیاری کریں۔
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کا بیان پارٹی کی پالیسی نہیں بلکہ ان کا ذاتی بیان ہے۔
ایک بیان میں بیرسٹر سیف نے کہا کہ پارٹی کی پالیسی پارٹی چیئرمین، سیکرٹری جنرل یا ترجمان ہی دے سکتا ہے، بشریٰ بی بی بانی چیئرمین کی اہلیہ ہیں، وہ جو کہہ رہی ہیں اس کی اپنی اہمیت ہے تاہم ان کا بیان پارٹی کی پالیسی نہیں بلکہ ان کا ذاتی بیان ہے۔
واضح رہےکہ گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان جب مدینہ ننگے پاؤں گئے اور واپس آئے تو جنرل باجوہ کو کالز آنا شروع ہوگئیں کہ یہ آپ کس شخص کو لے آئے، ہمیں ایسے لوگ نہیں چاہئیں۔
بشریٰ بی بی نے کہا تھا کہ باجوہ کو کہا گیا ہم تو ملک میں شریعت ختم کرنے لگے ہیں اور آپ ایسے شخص کو لےکر آئے،کہا گیا ہمیں ایسے لوگ نہیں چاہئیں تب سے ہمارے خلاف گند ڈالنا شروع کردیا گیا، میرے خلاف گند ڈالا گیا ، بانی پی ٹی آئی کو یہودی ایجنٹ کہنا شروع کیا گیا۔
بعد ازاں نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے سینئر صحافی انصار عباسی نے بتایا کہ انہیں قمر جاوید باجوہ کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ بشریٰ بی بی کی جانب سے کی گئی بات بالکل جھوٹ ہے۔